ترقی یافتہ ملکوں نے اپنی صنعتی ترقی کے لیے پورے مالی نظام کو خراب کیا ،آج سب جانتے ہیں بقا ء کا مسئلہ ہے،سلیم اللہ
اسلامی بینکنگ نظام سے 10سالوں میں غربت کی شرح کو20سے 40فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے،ڈاکٹرعشرت حسین
کراچی (آئی این پی )ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے کہا ہے کہ عوام کی سوچ کو اسلامک بینکنگ کی طرف راغب کرنا بڑا چیلنج ہے۔ انہوںنے یہ بات ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کے تحت آٹھویں انٹرنیشنل اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کانفر نس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسلامی نظام پر منتقلی بڑا کام ہے جو کرنا ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہیں تاہم عوام کی سوچ کو اسلامک بینکنگ کی طرف راغب کرنا اور آگاہی فراہم کرنا بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے منتقلی سے حقیقی اسلامی مالیاتی نظام کا حصول ہوگا، اسلامی بینکاری اسلامی مالیاتی نظام کا محض ایک حصہ ہے، ترقی یافتہ ملکوں نے اپنی صنعتی ترقی کے لیے پورے مالی نظام کو خراب کیا ہے۔سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ آج سب جانتے ہیں کہ یہ بقاء کا مسئلہ ہے، کیا ہم دنیا کو اسلامی مالیاتی نظام دے سکتے ہیں؟ ۔اس موقع پر سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین کا کہنا تھا کہ اسلامی بینکنگ نظام سے 10سالوں میں غربت کی شرح کو 20سے 40فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے، اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی مشکل کام ہے، حکومت اور اسٹیٹ بینک اس پر کام کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے لیے یہ کہہ دینا بہت آسان تھا کہ نظام اسلامی ہو۔انہوں نے کہا کہ دیگر وزارتیں اور صوبائی حکومتیں اسلامی مالیاتی نظام پر کام نہیں کر رہی ہیں، موجودہ ٹیکس نظام اسلامی اقدار کا نظام نہیں ہے۔