کالعدم جماعت الحرارنے کانسٹیبل ولی عمر کی ذہن سازی کی، افغانستان بھی گیا،افغان فورسز نے گرفتار بھی کیا
دوسال قبل پشاورپولیس لائنزمیں خودکش دھماکے میں جماعت الاحرار ملوث تھی، اختر حیات خان کی پریس کانفرنس
پشاور(آئی این پی )آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے کہا ہے کہ 2سال قبل پشاور پولیس لائنز خودکش دھماکے کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، فتنہ الخوارج کی کالعدم ذیلی تنظیم جماعت الاحرار دھماکے میں ملوث نکلی، سہولت کار پولیس کانسٹیبل محمدولی عمر کو گرفتار کرلیا۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے کہا کہ 2سال قبل پشاور پولیس لائنز میں خودکش دھماکا ہوا تھا، حملے میں 86پولیس اہلکار شہید اور 249زخمی ہوئے تھے، سی ٹی ڈی نے پشاور شہر میں اہم کارروائی کی، خودکش دھماکے میں سہولت کاری کرنے والا ملزم گرفتار کیا گیا، مارچ 2023میں اہم ملزم کو گرفتار کیا گیا۔آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ فتنہ الخوارج کی ذیلی تنظیم کالعدم جماعت الحرار خودکش دھماکے میں ملوث نکلی، گرفتار کانسٹیبل کا تعلق ڈسٹرکٹ پولیس پشاور سے ہے، کانسٹیبل محمد ولی عمر کو رنگ روڈ جمیل چوک پشاور سے گرفتار کیا گیا، محمد ولی نے 2لاکھ روپے لے کر خودکش بمبار کو ریکی کروائی اور منزل تک پہنچایا تھا۔اختر حیات خان نے مزید کہا کہ کالعدم جماعت الحرارنے کانسٹیبل ولی عمر کی ذہن سازی کی، ولی عمر افغانستان کے مختلف شہروں میں جماعت الحرار کے اڈوں پر بھی گیا، ولی عمر کو افغان فورسز نے گرفتار کیا، جماعت الحرار کے کہنے پر چھوڑا گیا۔