ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے آگے آنا ہوگا،ترقی پذیر ممالک کو 2030 تک 6 ہزار ارب ڈالر کی ضرورت ہے: وزیراعظم
ترقی یافتہ ملکوں کو یو این فریم ورک کے مطابق فنڈز مختص کرنا ہوں گے،پاکستان میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا تشویشناک ہے ‘تحفظ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے:باکو میں کلائیمیٹ فنانس کانفرنس اور تقریب سے خطاب
موسمیاتی تبدیلیوں سے نہ نمٹا گیا تو قیمت پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑے گی، دنیا بھر کو فنڈنگ کرنا ہوگی:عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کے حتمی مرحلے میں ہیں:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس
باکو(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا ہے، ترقی پذیر ممالک کو 2030 تک 6 ہزار ارب ڈالر کی ضرورت ہے، ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آگے آنا ہوگا، سالوں سے کیے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود بڑے پیمانے پر فرق بڑھتا جارہا ہے ۔ آذربائیجان کے درالحکومت باکو میں کوپ 29کانفرنس کے موقع پر کلائمیٹ فنانس گول میز مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیرممالک کو 2030 تک 6 ہزار 800 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کو ماضی قریب میں دو تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اب تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے نکل نہیں سکے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج ہم ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں عالمی موسمیاتی فنڈ کو ازسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطرے سے دوچار کمزور اقوام کی ضروریات کو موثر انداز میں پوراکیا جاسکے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ سالوں سے کیے گئے وعدوں اور بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود فرق بڑے پیمانے پر بڑھتا جارہا ہے، انہوں نے کہاکہ ترقیاتی ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آگے آنا ہوگا اور اقوام متحدہ کے فریم ورک پر عمل کرنا ہوگا۔ دریں اثنا باکو میں ہی گلیشیئرز کے تحفظ کے اقدامات سے متعلق تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا گلیشیئرز کے تحفظ کیلئے تاجک صدر کی میزبانی میں تقریب کا انعقاد خوش آئند ہے، تاجکستان کے صدر کی کوششیں لائق تحسین ہیں، ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا ہے مستقبل میں پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کیلئے گلیشیئرز کا تحفظ ضروری ہے۔ گلیشئرپینے کے پانی کا بڑا ذریعہ ہیں اور پاکستان میں نوے فیصد پانی گلیشیئرز سے حاصل ہوتا ہے، درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا تشویش ناک ہے گلیشیئرز کے تحفظ کیلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے، انسانیت کی بقا گلیشیئرز سے مشروط ہے۔عالمی کانفرنس کاپ 29 سے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنڈنگ پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو انسانیت کو قیمت ادا کرنا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے حتمی مرحلے میں ہیں۔