اداکارہ زرا نور عباس نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی، کیریئر اور ماں بننے کے بعد آنے والی جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیوں پر تفصیل سے بات کی ہے۔
انہوں نے خواتین کے جسمانی تبدیلیوں، باڈی شیمنگ اور معاشرتی دباؤ کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی تجربات شیئر کیے ہیں۔زرا نور عباس کا کہنا ہے کہ معاشرے میں خواتین سے یہ غیر حقیقی توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ حمل کے فوراً بعد پہلے جیسی شکل میں واپس آجائیں۔ یہ توقع نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ ذہنی دباؤ کا سبب بھی بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماں بننے کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ زچگی نے انہیں زیادہ نرم مزاج، پُرسکون اور جذباتی طور پر زیادہ حساس بنا دیا ہے، اور اب وہ دوسروں، خصوصاً دوسری ماؤں کے احساسات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں۔اداکارہ نے اس تاثر کو بھی رد کیا ہے کہ خواتین بیک وقت کیریئر اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سوچ پرانی اور غیر حقیقت پسندانہ ہے، اور خواتین دونوں کردار بخوبی ادا کر سکتی ہیں اگر انہیں مناسب سپورٹ ملے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کو ہمت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے خوابوں اور ذمہ داریوں کو ہم آہنگی سے نبھا سکیں۔
زرا نور عباس نے شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ہونے والی باڈی شیمنگ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران بار بار وزن اور جسمانی ساخت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض اوقات انہیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ انڈسٹری کے معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ برانڈز نے ان کی جسمانی ساخت کی وجہ سے کام کرنے سے انکار بھی کیا، جس سے ان کا اعتماد متاثر ہوا۔انہوں نے اس حوالے سے اپنی جذباتی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کئی بار وہ تنقید کی وجہ سے رونے پر مجبور ہوئیں، مگر بعد میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں کی رائے کو اپنی پہچان نہیں بننے دیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کو خواتین کے جسم پر تبصرہ کرنا بند کرنا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب وہ ماں بننے جیسے مشکل اور تکلیف دہ مرحلے سے گزر چکی ہوں۔
زرا نور عباس کا یہ انٹرویو ان تمام خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزائی ہے جو جسمانی تبدیلیوں اور معاشرتی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، اور یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ہر عورت اپنی اصل خوبصورتی اور خوداعتمادی کو برقرار رکھ سکتی ہے۔