برطانیہ میں مسجد پر حملہ، دہشت گردی کی کوریج میں مغربی میڈیا کا دہرا معیار بے نقاب

برطانیہ میں مسجد پر حملہ، دہشت گردی کی کوریج میں مغربی میڈیا کا دہرا معیار بے نقاب

اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب مؤثر اور مشترکہ عالمی اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

مغربی میڈیا کا دہرا معیار
دہشت گردی اور نفرت انگیزی کے واقعات کی کوریج میں مغربی میڈیا کا دہرا معیار ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں کو "نفرت انگیز جرم" یا "پرتشدد واقعہ" کہہ کر نرم انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جب کہ اگر یہی واقعہ کسی مغربی عبادت گاہ کے خلاف پیش آئے تو اسے فوری طور پر "دہشت گردی" قرار دیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں مسجد پر حملہ
بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے جنوبی ساحلی قصبے پیس ہیون (Peacehaven) میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔پولیس کے مطابق آگ نے مسجد کے مرکزی دروازے اور باہر کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جب کہ دو نقاب پوش حملہ آوروں نے مسجد کا دروازہ توڑنے کی بھی کوشش کی۔تاہم حیران کن طور پر، بی بی سی نیوز نے اس افسوسناک واقعے کو "نفرت انگیز جرم" قرار دیا،جب کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اسے صرف "پرتشدد حملہ" کہا۔اسی طرح عالمی جریدے "دی گارڈین" نے بھی مسجد پر حملے کو "آگ لگنے کا واقعہ" قرار دے کر دہشت گردی کے عنصر کو نظرانداز کیا۔

حکومتی ردعمل کی کمی
واقعے کے بعد برطانوی اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جانب سے کوئی واضح اور سخت مذمتی بیان سامنے نہیں آیا، جس سے مسلمانوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خاموشی سے اسلاموفوبیا کو تقویت ملتی ہے اور انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

عالمی سطح پر ذمہ داری
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنا مقامی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ساتھ ہی اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ وہ مغربی معاشروں میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف تعصب اور نفرت انگیزی کے خلاف ٹھوس حکمتِ عملی اپنائیں۔