برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کو ان دنوں شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد ان کے استعفے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران لیبر پارٹی کے اندر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور کئی سینئر رہنما قیادت کی تبدیلی پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پارٹی کے 80 سے زائد اراکین پارلیمنٹ وزیراعظم سے یا تو فوری استعفیٰ دینے یا پھر عہدہ چھوڑنے کے لیے واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی غیر متوقع ناکامی نے پارٹی اراکین میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے بعد اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کی کابینہ کے چار وزرا بھی احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں، جس سے حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم دوسری جانب 100 سے زائد لیبر اراکین پارلیمنٹ نے کیئر اسٹارمر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قیادت کی تبدیلی پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔برطانوی نشریاتی اداروں کے مطابق لیبر پارٹی میں نئے رہنما کے انتخاب کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کرنے کیلئے کم از کم 81 اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا پارٹی کے اندر باقاعدہ قیادت چیلنج کرنے کی تحریک شروع کی جائے گی یا نہیں۔
اپنے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفے کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں۔ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، لیکن اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ملک چلانا اور عوامی مسائل حل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں قیادت کی تبدیلی کا واضح آئینی طریقہ کار موجود ہے، تاہم ابھی تک اس عمل کا باضابطہ آغاز نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے اور حکومت عوامی ایجنڈے پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ادھر ڈیوڈ لیمی ے وزیراعظم کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال کسی بھی مخالف گروپ کے پاس اسٹارمر کو ہٹانے کیلئے مطلوبہ حمایت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی استحکام برقرار رکھنے کیلئے متحد ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی کمزور کارکردگی نے پارٹی کے اندر اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے باعث برطانیہ کی سیاست میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کے اندرونی فیصلے برطانوی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔