کسی خاتون کے ساتھ ہراسانی، چھیڑ چھاڑ، زیادتی یا بے حرمتی کا واقعہ پیش آئے تو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک ذمہ دار کٹہرے میں نہ آ جائیں
ماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں ‘میں نہیں چاہتی تھی، اُن کے کہنے پر میڈیکل میں چلی گئی ‘ ایک سال بعد خود کہا جو کرنا ہے کرو، پھر میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا
کبھی نہیں سوچا تھا سیاست میں آ ئوں گی، تاہم وقت کے ساتھ حالات نے مجھے اس میدان میں آنے کا موقع دیا :لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب
لاہور(سپیشل رپورٹر )وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے ان کی اولین ترجیح خواتین کے لیے ایک محفوظ پنجاب بنانا ہے جہاں ہر خاتون بلا خوف و خطر، اعتماد اور تحفظ کے ساتھ گھر سے باہر نکل سکے اور اسے کسی قسم کی ہراسانی یا بدسلوکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی کا تعلق بھی اسی تعلیمی ادارے سے ہونا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ سیاست میں آئیں گی، تاہم وقت کے ساتھ حالات نے انہیں اس میدان میں آنے کا موقع دیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ چند سال قبل تک پاکستان مسلم لیگ ن میں خواتین فرنٹ لائن سیاست میں کم دکھائی دیتی تھیں، مگر آج صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور وہ خود اس تبدیلی کی ایک مثال ہیں، مریم اورنگزیب اور عظمی بخاری سمیت متعدد خواتین سیاست اور حکومتی امور میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ صوبے کے کئی اہم اداروں کی سربراہی بھی خواتین کے پاس ہے۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ان کی کئی یادیں وابستہ ہیں، ڈگری حاصل کرنا زندگی کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی عملی زندگی کا آغاز ہے، اور معاشرہ خواتین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا مجھے لکھی ہوئی تقریر کرنے کا شوق نہیں، میں دل کی باتیں کرنا چاہتی ہوں۔ بہت پرانی بات لگتی ہے، 1989ء میں یہاں سے میں ایف ایس سی کر رہی تھی، میری والدہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں، لیکن میں کبھی ڈاکٹر نہیں بننا چاہتی تھی، اُن کے کہنے پر میں میڈیکل میں چلی تو گئی لیکن ایک سال بعد انہوں نے کہا جو کرنا ہے کرو، پھر میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا۔مریم نواز کہتی ہیں کہ ایسی جماعت سے تعلق رکھتی ہوں جہاں چند سال پہلے تک خواتین اگلی صفوں میں موجود نہیں ہوتی تھیں، مجھے لکھی ہوئی تقریر کرنے کا شوق نہیں، میں آپ سے دل کی باتیں کرنا چاہتی ہیں، میں خواتین کی طاقت پر یقین رکھتی ہوں، میں پاکستان کی بیٹیوں پر یقین رکھتی ہوں، مردوں سے مقابلہ کر کے جیت آنا کوئی معمولی بات نہیں، جب ہماری باصلاحیت خواتین ہر شعبے میں یوں ہی اپنا فعال کردار ادا کریں گی، تو پاکستان کی ترقی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔انہوں نے کہا کہ میری ذات کو چھوڑ دیں، لیکن کیا یہ خواتین کے لیے فخر کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا تعلق لاہور کالج ویمن یونیورسٹی سے ہے، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ 30،32 سال قبل کالج کے جس ہال میں میرا مذاق اڑایا گیا تھا وہاں بطور وزیراعلیٰ خطاب کروں گی،ن لیگ مردوں کی سیاسی جماعت تھی، لیکن میں نے جگہ بنائی، مردوں میں اپنی جگہ بنانا، مردوں کا مقابلہ کر کے آنا اور پھر مردوں سے جیت کر آنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ میں آن لائن ہراسمنٹ پر پورا سسٹم بنا رہی ہوں، اس کو میں بہت جلد لانچ کرنے جارہی ہوں، ماں باپ بچوں کی حفاظت کے لیے پابندیاں لگاتے ہیں، میں ماں باپ کو کہتی ہوں کہ جب کوئی بچی آپ کے پاس ہراسمنٹ کی شکایت لے کر آئے تو آپ اُس کا ساتھ دیں۔