ویب ڈیسک: وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "مودی کے دن گنے جاچکے ہیں، اب فیصلہ بھارتی عوام کرے گی۔"
انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مودی پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور ان کے خطاب میں چیزوں کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی لیکن اب وہ اتنی بڑی صورتحال کو کنٹرول نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کے دن گنے جاچکے ہیں اور اب یہ فیصلہ بھارتی عوام کو کرنا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کشمیر اور دہشت گردی پر مذاکرات ہوں گے اور بھارت سے مذاکرات کا ایجنڈہ واضح ہے جس میں دہشت گردی کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان 25 سال سے دہشت گردی کا شکار ہے اور اس الزام کا سامنا بھی پاکستان کو ہی کرنا پڑ رہا ہے۔" انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے ہندوستان کے ایجنٹ ہیں۔وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خود دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرانے کی پیشکش کی تھی اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا نقصان اٹھایا ہے، اور ہم نے عالمی سطح پر زیادہ نقصان برداشت کیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے مذاکرات کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بات کی جائے گی، جو طویل عرصے سے حل طلب ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کے مسئلے پر بھی مذاکرات ہوں گے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کو متنازع نہیں بنایا جاسکتا۔خواجہ آصف نے بھارت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہے، اور کئی سالوں سے دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے مشرقی اور مغربی محاذ پر بھارت کا سامنا ہے، اور اس بات کے ثبوت کینیڈا اور امریکا میں بھی موجود ہیں۔وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ جب مذاکرات کی کوششیں شروع ہوں، تو معاہدوں کی شقوں کے مطابق ان پر عملدرآمد کیا جائے اور بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے مذاکرات میں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔