گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 قومی اسمبلی سے منظور

گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 قومی اسمبلی سے منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی سے گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل 2024 منظور

اسلام آباد میں قومی اسمبلی نے پیر کو دو اہم تعلیمی بلز، "گھرکی ادارہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل 2024" اور "بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل 2024" کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی۔ ان بلز کے تحت نجی شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور بین الاقوامی سطح کے امتحانی نظام کے قیام کے لیے قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔

گھرکی ادارہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل:
بل کی محرک، رکن اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی نے ایوان کو بتایا کہ یہ بل چھ ماہ کی طویل مشاورت کے بعد پیش کیا گیا ہے اور اس کا مقصد لاہور میں قائم گھرکی اسپتال کے ساتھ منسلک یونیورسٹی قائم کرنا ہے تاکہ میڈیکل اور سائنسی تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔اپوزیشن کی جانب سے جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے اس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل 18ویں ترمیم کے منافی ہے، کیونکہ تعلیم کا شعبہ اب صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر مین کیمپس لاہور میں ہوگا تو اسلام آباد میں سب کیمپس کیوں بنایا جا رہا ہے؟ تاہم ان کی ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے تجویز دی کہ ہر تعلیمی ادارے میں 25 فیصد نشستیں مستحق طلبا و طالبات کے لیے مختص ہونی چاہئیں، جس پر ثمینہ خالد نے حمایت کا اعلان کیا اور یہ ترمیم منظور کر لی گئی۔

بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل:
دوسرا بل "بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل 2024" رانا قاسم نون نے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ پیش کیا۔ اس بل کی شق وار منظوری بھی لی گئی اور حکومت نے بل کی حمایت کی۔ اس بل کا مقصد پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا امتحانی نظام متعارف کرانا ہے تاکہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم و امتحانات تک رسائی حاصل ہو۔

ان دونوں بلز کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت تعلیمی شعبے میں مزید نجی و بین الاقوامی شراکت داری کی راہ ہموار کرے گی، جبکہ اپوزیشن کی طرف سے آئینی پہلوؤں پر تحفظات اب بھی موجود ہیں۔