لاہور (کرائم رپورٹر)ایل ڈی اے نے ریکارڈ سفٹنگ کے بعد لائف ٹائم پراپرٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔حکام اسے نظام کو آسان بنانے کا اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ ماہرین فراڈ اور ریونیو نقصان کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ہزاروں متنازع فائلوں کے باوجود مستقل کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی تجویز اس منصوبے کو تنقید کے دائرے میں لے آئی ہے۔دستاویزات کے مطابق ایل ڈی اے نے اپنے ورکنگ پیپر میں پراپرٹی ٹرانسفر کے لیے جاری این او سی نظام ختم کر کے ‘‘پراپرٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ’’ جاری کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریکارڈ سفٹنگ میں کلیئر قرار دی گئی پراپرٹیز کو لائف ٹائم سرٹیفکیٹ دیا جائے گا اور آئندہ خرید و فروخت یا ٹرانسفر کے لیے الگ این او سی کی شرط ختم ہو جائے گی۔دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ ساٹھ ہزار چوبیس پراپرٹیز کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جن میں سے ایک لاکھ نو سو ترانوے فائلیں سفٹنگ کے عمل سے گزریں اور انسٹھ ہزار دو سو بہتر پراپرٹیز کو کلیئر قرار دیا گیا۔ تاہم دو ہزار آٹھ سو سینتالیس فائلیں نوٹ کلیئر جبکہ چودہ ہزار چھ سو سینتالیس پلاٹس ایل ڈی اے ملکیت یا پلاٹ بینک میں شامل قرار دیے گئے۔ مزید تیرہ ہزار ستاسی کیسز میوٹیشن اور اعتراضات جبکہ گیارہ ہزار ایک سو چالیس فائلیں الاٹمنٹ اور لٹیگیشن تنازعات میں الجھی ہوئی ہیں