ملزم نعمان قیصر نے معاذ کو اجرتی قاتلوں کے ذریعے قتل کرایا ‘قتل کرانے سے پہلے سپین چلاگیا
ریڈ وارنٹ جاری ہونے پر نعمان کوواپس وطن لایا گیا‘ضمانت کے بعد بیرون ملک فرار کامنصوبہ بنا رہا تھا
سندھ بارڈر کے قریب گاڑی کوروکا گیاتو ملزم نعمان نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی‘جوابی کارروائی میں مارا گیا
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور کے علاقے نصیر آباد میں معروف کمپنی کے مالک کے قتل کیس میں مطلوب مرکزی ملزم نعمان قیصر رحیم یار خان میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نعمان قیصر کی موجودگی رحیم یار خان سے سندھ جانے کے دوران معلوم ہوئی جس پر گزشتہ روز پنجاب۔سندھ بارڈر کے قریب ناکہ بندی کی گئی۔ خفیہ اطلاع پر ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک جانتے ہوئے روکا گیا تو ملزم نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ جوابی کارروائی میں ملزم نعمان قیصر مارا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم نعمان قیصر کے خلاف لاہور میں قتل سمیت تین مقدمات درج تھے، جن میں تھانہ نصیر آباد، کاہنہ اور سی سی ڈی کے مقدمات شامل ہیں۔ ایک مقدمہ اس کے بہنوئی کے قتل کا بھی درج تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق مقتول معاذ سہراب سائیکل فیکٹری کے مالک کا بیٹا تھا جسے 2023 میں نصیر آباد تھانے کی حدود میں اجرتی قاتلوں کے ذریعے قتل کرایا گیا۔ اس مقدمے میں ملوث دونوں شوٹرز کو عدالت پہلے ہی عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔تحقیقات کے مطابق ملزم نعمان قیصر واردات سے قبل سپین چلا گیا تھا اور وہیں سے شوٹرز کی مدد سے معاذ کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ بعد ازاں ریڈ وارنٹ جاری ہونے پر اسے پاکستان واپس آنا پڑا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ایک بار پھر بیرون ملک فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور سندھ کے راستے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔دوسری جانب سی سی ڈی لاہور پر ملزم نعمان قیصر کے اغواء کا الزام بھی لگایا گیا تھا جبکہ ذرائع کے مطابق اسے عدالتوں میں پولیس پروٹوکول میں پیش کیا جاتا رہا۔ذرائع کے مطابق کیس میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کی مبینہ پشت پناہی کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔