پاکستان اور ترکیہ کا تجارتی و دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور ترکیہ کا تجارتی و دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

اسلام آباد میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 16ویں پاک-ترکیہ مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے کی۔

 اجلاس میں دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، آئی ٹی، صحت اور دفاع سمیت کئی شعبوں میں تعلقات کو نئی جہت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

تجارتی و معاشی تعاون
پاکستان نے ترک سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سہولتیں دینے کا اعلان کیا، جبکہ دونوں ممالک نے تجارتی معاہدے "Trade in Goods Agreement" پر تیز تر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔

توانائی کے شعبے میں شراکت داری
دونوں ممالک نے قابل تجدید توانائی، تیل و گیس کی تلاش، ایل این جی تجارت، گرڈ ماڈرنائزیشن اور توانائی بچت منصوبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دفاعی تعلقات
اجلاس میں دفاعی تعاون کو پاک-ترکیہ تعلقات کی پہچان قرار دیا گیا۔ اس ضمن میں دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ فوجی تربیتی پروگراموں پر بات چیت ہوئی۔

زراعت و خوراک
کمیشن میں زراعت، فوڈ سکیورٹی، لائیو اسٹاک، ماہی پروری اور بیجوں کی جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

صحت اور تعلیم
صحت کے شعبے میں ترکیہ کے "Heal in Türkiye" پروگرام کے ذریعے تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ فیصل آباد میں پاک-ترکیہ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام کو دوطرفہ تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دیا گیا۔

آئی ٹی و ٹیکنالوجی
دونوں ممالک نے آئی ٹی، ای-کامرس، فِن ٹیک، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

عوامی روابط
اجلاس میں میڈیا، ثقافت، سیاحت اور ہنر مند افرادی قوت کے تبادلے کے ذریعے عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

فلسطین پر موقف
پاکستان اور ترکیہ نے اس موقع پر فلسطینی عوام کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا اور جے ایم سی پروٹوکول کو مستقبل کے تعاون کا جامع روڈ میپ قرار دیا۔