وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر پارلیمانی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مختلف اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد آئندہ بجٹ کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ، جامع، شفاف اور ترقیاتی بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔سرکاری اعلامیے کے مطابق، اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، سماجی شعبوں، مالی نظم و نسق، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتحادی جماعتوں نے بجٹ تجاویز پر اپنی آرا پیش کیں اور متعدد عوامی مفاد کے نکات کو شامل کرنے کی سفارش کی۔وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"ہم ایک ایسا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں جو صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی، فلاح اور خود کفالت کا روڈ میپ ہوگا۔"انہوں نے واضح کیا کہ:
بجٹ میں شفافیت، فلاحِ عامہ، اور توازن بنیادی رہنما اصول ہوں گے۔
نوجوانوں، خواتین، اور کمزور طبقات کے لیے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ترجیحات کا تعین عوام کی بنیادی ضروریات، بالخصوص صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط اور کفایت شعاری پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اتحادیوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا، کیونکہ اجتماعی دانش ہی سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی کی ضمانت ہے۔واضح رہے کہ بلوچستان کا بجٹ 17 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا، اور صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی بجٹ تجاویز اسمبلی میں پیش کریں گے۔