اسرائیلی حملوں کے بعد مشہد و قُم میں عوام کا اجتماع، مسجد جُمکران پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا

 اسرائیلی حملوں کے بعد مشہد و قُم میں عوام کا اجتماع، مسجد جُمکران پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا

اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد ایران کے اہم مذہبی شہروں مشہد اور قُم میں عوامی جذبات بھڑک اٹھے ہیں۔

 ہزاروں افراد نے مقاماتِ مقدسہ پر جمع ہو کر صیہونی ریاست کے خلاف سخت انتقامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ایرانی شہر قُم میں واقع معروف مسجد جُمکران پر سرخ پرچم لہرایا گیا، جو ایرانی ثقافت اور مذہب میں "انتقام" کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس اقدام کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے خلاف ایک علامتی اعلانِ انتقام قرار دیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق، مشہد میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضے پر بھی بڑی تعداد میں زائرین اور شہریوں نے اجتماع کیا۔ ان اجتماعات میں اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور شہداء کے حق میں دعائیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی اسی نوعیت کے ایک اسرائیلی حملے کے بعد، جس میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں نشانہ بنایا، قُم کی مسجد جُمکران پر سرخ پرچم لہرایا گیا تھا۔ تب بھی یہ عمل ایران کی جانب سے ایک ممکنہ جوابی کارروائی کا پیش خیمہ سمجھا گیا تھا۔ایرانی میڈیا اور عوامی حلقوں میں موجودہ صورتحال کو انتہائی سنجیدہ اور حساس قرار دیا جا رہا ہے، اور ایرانی حکام کی جانب سے ممکنہ ردعمل پر بھی عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔ اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور جنگ کے دائرہ کار کے وسعت اختیار کرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔