ویب ڈیسک: اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں غیرمعمولی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایران، عراق اور اردن نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جب کہ متعدد عالمی ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ یا ان کا رخ موڑ دیا ہے۔ایوی ایشن ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، خطے میں درجنوں کمرشل پروازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے، اور خلیج و مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود عملی طور پر محدود ہو چکی ہے۔
متاثر ہونے والی ایئرلائنز:
فلائی دبئی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عمان، بیروت، دمشق، ایران اور اسرائیل کیلئے اپنی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔ایئر انڈیا نے نیویارک، لندن اور وینکوور سے ایران جانے والی پروازیں روانگی سے قبل ہی واپس بلا لیں۔ایمریٹس اور قطر ایئرویز نے بھی ایران و عراق کے راستوں سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
علاقائی صورتحال:
عراق کی سرکاری میڈیا کے مطابق، ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں۔اردن کی حکومت نے بھی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث فضائی نیویگیشن مزید متاثر ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی انتباہ:
ایوی ایشن سیکیورٹی پلیٹ فارم سیف ایئر اسپیس (Safe Airspace) نے دنیا بھر کی ایئرلائنز کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود فی الوقت خطرناک ترین زون میں تبدیل ہو چکی ہے، اور فوری طور پر غیر ضروری پروازوں سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی اس بحرانی کیفیت نے عالمی ایوی ایشن نظام کو ایک بار پھر چوکنا کر دیا ہے، اور اگلے چند روز میں پروازوں کی مزید معطلی یا تبدیلی متوقع ہے۔