بھارتی ریاست کرناٹک میں زمین کے تنازع سے متعلق مقدمہ اپنے حق میں کرانے کی مبینہ کوشش میں جج پر کالا جادو کرنے کے الزام میں 65 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون پر الزام ہے کہ وہ عدالت میں داخل ہوئی اور جج کی کرسی اور ڈائس پر سفید سرسوں کے دانے بکھیر دیے۔ پولیس کے مطابق خاتون کا مبینہ مقصد توہم پرستانہ عقیدے کے تحت عدالتی فیصلے کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش تھا۔رپورٹس کے مطابق عدالتی عملے نے جج کی نشست پر سفید سرسوں کے دانے دیکھے تو معاملہ مشکوک محسوس ہوا، جس کے بعد عدالت میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا گیا۔فوٹیج میں ایک خاتون کو جج کی کرسی اور ڈائس کے قریب سفید سرسوں کے دانے بکھیرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد عدالتی عملے نے مقامی پولیس کو اطلاع دی اور مقدمہ درج کرا دیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 65 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ اس یقین کے ساتھ یہ عمل کر رہی تھی کہ اس سے زمین کے تنازع کا مقدمہ اس کے حق میں ہو جائے گا۔بعد ازاں خاتون کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اس واقعے کے بعد بھارت میں توہم پرستی، کالا جادو اور عدالتی نظام کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔