قطر کے سابق امیر اور جدید قطر کے معمار سمجھے جانے والے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو دارالحکومت دوحہ میں سادہ اسلامی رسم کے مطابق سپردِ خاک کر دیا گیا۔
وہ 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔قطری حکام کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی نمازِ جنازہ مغرب کی نماز کے بعد دوحہ کی معروف امام محمد بن عبدالوہاب مسجد میں ادا کی گئی، جس میں شاہی خاندان کے افراد، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کے جسدِ خاکی کو ان کے صاحبزادے اور موجودہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سمیت قریبی اہلِ خانہ نے کندھا دیا، جس کے بعد انہیں دوحہ کے شمال میں واقع لوسیل قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق تدفین کی تقریب انتہائی سادہ انداز میں اسلامی روایات کے مطابق منعقد ہوئی۔ شرکاء نے مرحوم کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور ان کی قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکمرانی کی۔ ان کے دور میں قطر نے اقتصادی، سیاسی، سفارتی اور ترقیاتی شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی۔ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کی ترقی پر خصوصی توجہ کے باعث قطر دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) برآمد کنندگان میں شامل ہوا، جبکہ ملکی معیشت کو بھی غیر معمولی استحکام حاصل ہوا۔
ان کے دورِ حکومت میں 1996 میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا، قطر کا پہلا مستقل آئین نافذ کیا گیا، بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اور خواتین کو ووٹ ڈالنے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا۔ 2013 میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا، جسے خلیجی ممالک کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سیاسی اقدام قرار دیا جاتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے قطر کو ایک جدید، خوشحال اور عالمی سطح پر بااثر ریاست بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے دور میں قطر نے توانائی، سفارت کاری، کھیل اور میڈیا کے شعبوں میں عالمی مقام حاصل کیا، جبکہ 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی بھی انہی کی پالیسیوں کا تسلسل سمجھی جاتی ہے۔
مرحوم کی وفات پر قطر سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں اور عالمی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔