چودھری فرحان شوکت ہنجرا۔
سال 2025 کا سیلاب اپنی تلخ یادیں چھوڑ کر ماضی کا قصہ بن گیا لیکن حقیقی زندگی میں اس کے منفی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس ہوتے رہیں گے سیلاب 2025 میں سب سے متاثر ہونے والا شعبہ زراعت اور اس سے وابستہ دیہی آبادیوں کے مکین اور کسان ہیں جن کی فصلیں سیلابی پانی کی موجوں میں غرق ہو گئیں مال مویشی۔حویلیاں گھر پانی کے نذر ہو گئے
ڈسٹرکٹ شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی کے دریائے راوی سے متصل دیہاتوں کے مکین سیلاب سے محفوظ رہ سکتے تھے گر اگر محکمہ اریگیشن ایم آر لنک لنک کینال کے رائیٹ بنک کے آوٹ فال000+ RD313 پر BRBD تک حفاظتی بند بناتا تو جاجو گل۔ بریار۔ پسیانوالہ،کجلہ و دیگر دیہات دریائے راوی کے سیلاب سے محفوظ رہ سکتے تھے لیکن محکمہ اریگیشن پنجاب کے2017 سے 2025 تک سیکرٹری صاحبان نے اس حفاظتی بند کی تعمیر کی فائل کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا
حفاظتی بند بنانے کا معاملہ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں زیر بحث آیا پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مرحوم ڈاکٹر سید وسیم اختر نے دریائے راوی کے کٹاؤ اور سیلاب سے متاثرہ علاقے کے کسانوں کی آواز پر پنجاب اسمبلی میں 11 مئی 2017 کو تحریک التواء کار جمع کروائی جس کا محکمہ اریگیشن نے 18 مئی 2017 کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں تحریک التوا کار کا جواب جمع کروایا کہ مرالہ راوی لنک سے نیچے دریائے راوی کے کٹاؤ سے بچاؤ کیلئے چک بندی ڈویڑن لاہور نے ایک سکیم تیار کرکے عمل درآمد کیلئے دی ہے محکمہ اس صورتحال سے پوری طرح باخبر ہے اس پراجیکٹ کا تخمینہ 96.883 ملین روپے لگایا گیا ہے
حفاظتی بند بنانے کے حوالے سے محکمہ اریگیشن کی ایکسپرٹ کمیٹی کے ارکان نے میں اس حفاظتی بند بنانے کی منظوری پر اتفاق کیا ہوا ہے
ہر سال محکمہ اریگیشن کے ایکسیئن سے لے کر چیف انجینئر لاہور تک اس حفاظتی بند بنانے کیلئے اسے ADP میں شامل کرنے کیلئے سیکرٹری اریگیشن کو Request بھجواتے ہیں لیکن ان محنت بے کار جا رہی ہے اگر یہ بند بنا ہوتا تو نارنگ منڈی کے دریائے راوی سے متصل دیہات سیلاب سے محفوظ رہ سکتے تھے لیکن یہ حفاظتی بند تو بنایا ہی نہیں گیا اور آج اس حفاظتی بند کی تعمیر کا تخمینہ 750.000 ملین روپے تک پہنچ گیا ہے
96 ملین روپے کے حفاظتی بند بنانے کی لاگت کا جو منصوبہ تجویز کیا گیا تھا اب اس کی لاگت 750ملین روپے تک پہنچ چکی ہے اور ابھی تک کوئی علم نہیں کہ اس منصوبے کو آیا سالانہ ترقیاتی پروگرام ADP-2025-26 میں شامل کیا گیا ہے بھی کہ نہیں اور اب تو سالانہ ترقیاتی پروگرام ADP-2026-27 کا آغاز ہونے والا ہے اور نئے مالی کے ریٹس میں اس منصوبے کی مالیت بڑھ سکتی ہے
اسی طرح بی آر بی نہر کے ساتھ جانے والی کجلہ بریار روڑ پر اریگیشن کے ڈیک پل کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے اس پل کی دونوں اپروچز سیلاب کے پانی سے ختم ہو گئی ہیں اور عوام کا زمینی راستہ دیگر دیہاتوں میں جانے کیلئے ختم ہو گیا ہے عوام الناس نے اپنی مدد آپ کے تحت عارضی راستہ بنا لیا ہے لیکن مون سون کے موسم میں ڈیک کے پانی کے پل کے نیچے گذرنے سے یہ عارضی راستہ ٹریفک کیلئے بند ہو جائے گا
لہذا محکمہ اریگیشن مون سون بارشوں کے سیزن سے قبل اس پل کی اپروچز کی مرمت کرے
وزیر اعلیٰ پنجاب نارنگ منڈی میں دریائے راوی کے کٹاؤ اور سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے ایم آر لنک نہر سے بی آر بی نہر تک حفاظتی بند بنانے اور فنڈز کی منظوری دیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دیں کہ اس انتہائی اہمیت کے حامل منصوبہ میں جن اریگیشن کے اعلیٰ سرکاری حکام نے غفلت برتی ہے ان کے خلاف سخت کارروائی ہو کیونکہ بہت بڑے پیمانے پر حفاظتی بند نہ بنانے سے کسانوں کے مالی نقصان کے ذمہ دار محکمہ اریگیشن کے اعلیٰ حکام ہیں
دوسری جانب سیلاب 2025 میں روڑ انفراسٹرکچر اور دیہاتوں کی گلیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اوچا پنڈ تا مہتہ سوجا روڑ،کوٹ بھیلاں ہیڈ تا کجلہ بریار روڑ ،پسیانوالہ روڈ،ہیڈ کوٹ بھیلاں تا چکرالی۔بریار تا جاجو گل۔مردانہ تا ننگل وارث،مہتہ سوجا ماڑی روڈ کو بہت نقصان پہنچا ہے محکمہ مواصلات پنجاب نے ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیلئے تخمینہ جات تیار کرکے فنڈز کیلئے حکومت پنجاب کو بھجوا دیئے ہیں اسی طرح محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب نے سیلاب سے متاثرہ دیہات پسیانوالہ۔بریار۔کجلہ۔جاجوگل۔شتاب گڑھ۔سترائیاں۔چکرالی،
میں گلیوں کی دوبارہ تعمیر کیلئے تخمینہ تیار کر لیا ہے
وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی نارنگ منڈی میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور گلیوں کی دوبارہ تعمیر و مرمت کے حوالے سے درخواست کی ہوئی ہے ہم وزیر اعلیٰ پنجاب سے عوامی مفاد عامہ میں مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نارنگ منڈی میں سیلاب سے تباہ حال سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دیں