چودھری فرحان شوکت ہنجرا
صوبہ پنجاب کے عوام کی جان و مال عزت کے یقینی تحفظ کیلئے ، شوٹرز۔قبضہ مافیا۔ڈکیتی۔ذیادتی۔قتل جیسے آرگنائزڈ کرائم کے خاتمے کیلئے جاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سرگرم عمل ہے اس نئے ادارے کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ صاحب ہیں جبکہ سی ٹی ڈی دہشت گردی کے تدارک دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے بنایا گیا ہے جو کہ ملک کے ہر صوبے میں فعال ہے اور محکمہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے افسران و اہلکار بھی اپنا قومی فرض ادا کر رہے ہیں لیکن پنجاب میں نئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ بنانے سے یہ بات اخذ کی جا رہی ہے کہ پنجاب حکومت پنجاب پولیس کی کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی اگرچہ سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ پنجاب پولیس ہی کی ایک شاخ ہے لیکن یہ خدشات نجانے کیوں ابھر رہے ہیں کہ اس سے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اختیارات کی جنگ کی روش نہ شروع ہو جائے ہر کوئی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دوسرے ڈیپارٹمنٹ کو زچ کرنا نہ شروع کردے
جن سات جرائم کے خلاف یہ نیا ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا ہے ماضی میں انہی جرائم کے خاتمے کیلئے محکمہ پولیس میں "ایلیٹ فورس پولیس" کا ڈیپارٹمنٹ تشکیل دیا گیا تھا ایڈیشنل آئی جی،ڈی آئی جیز۔ایس ایس پیز اور اضلاع میں افسران و اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی اس ایلیٹ فورس نے اپنے قیام سے پیشہ ور قاتلوں۔اشتہاریوں۔ڈکیتوں۔کو کیفرو کردار پہنچایا عوام نے سکھ کا سانس لیا لیکن پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے کہ آہستہ آہستہ اس ایلیٹ فورس کو اضلاع سے واپس بلا لیا گیا اور اب یہ ایلیٹ پولیس فورس ارباب اختیارات و اقتدار اور دیگر اشرافیہ کو تحفظ دینے کیلئے "پروٹوکول و پروٹیکشن فورس بن کر رہ گئی ہے اس فورس کی مینجمنٹ۔ٹریننگ سٹرکچر آب و تاب سے اپنی جگہ موجود ہے لیکن مقصد عوام نہیں بلکہ صرف حکمران طبقہ کی سیکورٹی سول سرکاری اداروں کے افسران ججز حضرات پولیس افسران و دیگر وی آئی پیز کو سیکورٹی فراہم کرنے میں مرکوز ہے کیونکہ اگر یہی اشرافیہ طبقات محفوظ ہیں تو سب محفوظ ہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سرخیل سابق آئی جی موٹر وے پولیس پاکستان محترم ذوالفقار احمد چیمہ صاحب جو پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں محکمہ پولیس میں اپنے فرائض منصبی انتہائی ایمانداری دیانت داری جانفشانی سے ادا کرکے عزت و تکریم سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں وہ بھی اپنی پولیس سروس کے دوران برملا اظہار کر تے رہے کہ ایلیٹ پولیس فورس کو اس کے قیام کیاصل مقصد اور فرائض منصبی پر واپس بھیجنے کی ضرورت ناگزیر ہے لیکن کسی حکومت اور محکمہ پولیس پنجاب کے سربراہوں نے ان کے موقف کو سنی ان سنی کر دیا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ پنجاب کے دور دراز اضلاع میں سماج دشمن عناصر کا راج قائم ہو چکا ہے اب کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد حکمران اور ارباب اختیارات ایلیٹ فورس کے جھرمٹ میں پروٹوکول کے ساتھ آتے ہیں اور ایلیٹ فورس کے اہلکار اسلحہ کے ساتھ فل ایکشن کے ساتھ پوزیشن لیئے ہوتے ہیں تو عوام برملا کہتے ہیں کہ گھونگلاں توں مٹی چاڑن آئے نیں اس میں ایلیٹ فورس کے افسران و جوانوں کا کوئی قصور نہیں قصور وار ہیں تو حکومت پنجاب اور محکمہ پولیس پنجاب کے بڑے ہیں جنہوں نے اس ادارے کی افادیت کو ختم کر دیا ہے ایلیٹ فورس ادارے کو سالانہ اربوں روپے فنڈز ان کی ٹرینگ، آپریشنل،و دیگر مالی وسائل پر خرچ تو کیے جا رہے ہیں لیکن اس کا ثمر اشرافیہ حاصل کر رہی ہے پنجاب پولیس کے سربراہ بتائیں کہ ایلیٹ پولیس فورس تھانوی سے نکل کر سوائے پروٹوکول سیکورٹی ڈیوٹی دینے کے علاؤہ کیا کر رہی ہے اگر ایلیٹ فورس اپنے مشن پر کار بند رہتی تو سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی
دوسری جانب اس وقت صوبہ پنجاب میں کی شاہراہوں میں عوام الناس کے سفر کو محفوظ کرنے کیلئے پنجاب ہائی ویپیٹرولنگ پولیس قائم کی گئی جو ماضی میں بڑی شاندار کارکردگی کی حامل رہی ہے عوام دور دراز اضلاع کی مین ہائی ویز۔رابطہ اوردیہی روڈز پر بلا خوف و خطر سفر کرنے کو ترجیح دینے لگے تھے لیکن پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کو بھی نظر لگ گئی ہے کیونکہ ایسا بھونڈا فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کے زیر استعمال گاڑیوں کو روزانہ صرف 6سے 7لٹر ڈیزل فراہم کیا جا رہا ہے مجھے بتائیں کیا شاہراہوں پرخاک پیٹرولنگ ہوگی پنجاب پولیس کے آئی جی سے لے کر تھانے کے ایس ایچ او کی سرکاری گاڑیوں کو بھی روزانہ اتنا ہی فیول فراہم کیا جا رہا ہے ؟صاف محسوس ہو رہا ہے کہ یہ عقل سے عاری فیصلہ و اقدام کیا گیا ہے
خدارا آئی جی پنجاب ڈاکٹر محمد عثمان صاحب پیٹرولنگ پولیس کو شاہراہوں پر پیٹرولنگ کرنے کیلئے گاڑیوں کی فلنگ کیلئے نیا میکنزم ترتیب دیں اور پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کی گاڑیوں میں 24 گھنٹوں میں 7لٹر فیول استعمال کرنے کا فیصلہ واپس لیں پیٹرولنگ پولیس کی گاڑیاں ہائی ویز پر مسلسل پیٹرولنگ کریں گی تو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے اس وقت پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس اپنی پیٹرولنگ پوسٹوں کے باہر عام پولیس چیک پوسٹ بن گئی ہیں وہاں کھڑے کھڑے چیکنگ کرلی
ایلیٹ فورس کو اس کے اصل مشن پر دوبارہ تھانوی کی سطح پر بھجوائیں اور پیٹرولنگ پولیس کو بھی اس کے اصل ہدف کی طرف راغب کریں
آئی جی پنجاب ڈاکٹر محمد عثمان انور صاحب سے پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ لاہور نارووال کرتار پور روڈ نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کے مقام کھنڈا گاؤں اور دربار سید محمد میراں کے قریب 4 سال سی پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس پوسٹ نور مصطفیٰ کی تعمیر ہونی ہے یہ روڑ اندرون و بیرون ملک سے آئے سکھ یاتری اپنی مقدس جگہ کرتار پور جانے کیلئے یہی روڑ پر سفر کرتے ہیں سیکورٹی اور عوامی مفاد عامہ میں اس پیٹرولنگ پولیس پوسٹ نور مصطفیٰ کو آئندہ مالی سال کے اینول ڈویلپمنٹ پروگرام ADP-2026-27 میں اس کو شامل کروائیں تاکہ آئندہ سال یہ پیٹرولنگ پولیس پوسٹ اپریشنل ہو جائے۔