وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازکی بہترین کارکردگی

 آکاش علی فرتاش
ایک پیشہ ور صحافی نہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہوتا ہے، نہ کسی ادارے کا ترجمان  البتہ وہ صرف سچ کو بیان کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ کارل مارکس ایک جرمن فلسفی، ماہر اقتصادیات اور انقلابی تھے انہوں نے 18 ویں صدی  میں کہہ دیا تھا '' صحافتیہ نہیں کہ آپ بتائیں کہ وہاں کوئی مر گیا ہے بلکہ صحافت  اس اعلان کا نام ہے کہ  یہاں کوئی مرنے والا ہے۔میں ایک صحافی ہوں لہذا میری کوئی سیاسی پارٹی نہیں لیکن یہ میرا صحافتی فرض بنتا ہے کہ جو کسی بھی سیاستدان یا سماجی کارکن کی طرف سے انسانیت کی فلاح کے لئے عملی طور پہ  ہوتے ہوئے  دیکھوں اْسے سراہا جائے.وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے ثابت کر دکھایا کہ وہ ذہین لیڈر ہیں، انہوں نے بھاٹی گیٹ واقعے کو قتل کے مترادف قرار دے کر  واضح کر دیا کے  وہ انصاف پسند اور محب عوام دوست شخصیت ہیں۔ انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر  سمیت 4 افسران کی گرفتاری اور  دو  افسروں کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دیا۔ مریم نواز کی زیرصدارت لاہور میں ہول واقعے پراعلی سطح اجلاس میں بھاٹی گیٹ واقعے پر تفصیلی بریفنگ نے  ثابت کیا کہ وہ  مثبت سوچ کی  مالک ہیں  اور  طبقاتی تقسیم سے پاک ہو کر انصاف کے میزان کو کسی ایک طرف بھاری کر کے فیصلہ کرنے کی قائل نہیں ہیں  ان کی بریفنگ نے واضح کر دیا   کہ وہ ایک  ذہین لیڈر ہیں وہ لیڈر جن کے دل و دماغ میں  معاشرے کی اصلاح  کے لئے بھرپور  صلاحیت موجود ہے۔ان  کی  حکمت عملی میں کسی  طرح   کی کوئی کمی  کوتائی نہیں  تھی اور انہوں نے اپنا فریضہ بخوبی سرانجام دیا یہی ایک خوبی ہوا کرتی ہے جس کی بدولت ایسے منصفانہ فیصلے کرنے والے لیڈر صدیوں تک یاد رہتے ہیں۔مریم نواز نے اس اجلاس میں  افسران کی بخوبی سرزش کی، انہوں نے کہا کے ایل ڈی اے، نیسپاک اور  کنٹریکٹر نے غفلت برتائی  جبکہ  لاہور میں  تعمیراتی کاموں کو   شہر   کی  خوبصورتی  کے لیے ترجیح دیا گیا  نا کہ  لوگوں  کو مارنے اور نقصان پہنچانے کے لئے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے پر کمشنر  لاہور بھی اتنا ہی قصوروار ہے جتنا ایل ڈی اے ہے۔ ماں بیٹی کی موت کے واقعے کو  دبانے کی کوشش کی گئی اور ہر  مرحلے پر مجرمانہ غفلت برتائی گئی۔ مریم نواز نے کہا کہ خاتون بچی سمیت میں ہول میں گر گئی اور اْلٹا اس کے شوہر کو ہی پکڑ لیا گیا بجائے اس  کے  متاثرہ خاندان کو دلاسہ دیا جاتا، ان کو تھانے لے گئے، خاتون کے شوہر کو تھانے میں بند کر کے شدید زیادتی کی گئی اس پر مجھ سمیت سب جوابدہ ہیں۔یہ مریم نواز کی عظمت ہے کہ انہوں نے خود کو بھی جوابدہ میں شامل رکھا ناکہ صرف اْنہیں  جو کہ اس جرم کے حقیقی مجرم ہیں  صرف انہی کو جھنجھوڑا ہو۔ مریم نواز کا کہنا ہے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے۔انہیں کہیں بھی نوکری نہیں ملنی چاہیے،مریم نواز  کا یہ کہنا دلیل ہے اس بات کی کہ ان کا دل انسانیت کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے اور ظلم و جبر کے خلاف سخت مخالفت  کا مزاج،اسی لئے میری سوچ کے مطابق وہ ایک انصاف پسند لیڈر ہیں جو مجرم کو کیفرکِردار تک پہنچانے کو 
ترجیح دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔مریم نواز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ساڑھے  سات بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔ دو منٹ بعد ریسکیو کو کال کی گئی۔سب کام بند کر کے چلے گئے اور میں ہول کو کْھلا چھوڑ دیا گیا. جنہوں نے اس جگہہ کو کْھلا چھوڑا کیا ان کے گھر میں بچے نہیں؟ انہوں نے یہ  بھی کہا کہ سیف سٹی ہیڈ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کوئی واقعہ ہوا ہے، مَیں نے کال کی تو انہیں پتہ چلا۔ وزیراعلٰی  پنجاب نے کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے لے کر متاثرہ  خاندان کو دینے کا حکم دیا اور انتظامیہ کو ہدایت بھی کی کہ متاثرین کے اہل خانہ کو گاڑی بھی دی جائے۔دوسری جانب ماں بیٹی کی لاشیں ملنے کے بعد پروجیکٹ پہ کام کرنے والی مکمل ٹیم کو معطل کر دیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پوسٹمارٹم کے بعد ماں اور بیٹی کی لاشوں کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔یاد رہے کہ لاہور میں انتظامیہ کی لاپروائی نے انتہا کی، پہلے تو انتظامیہ نے واقعہ کو فیک نیوز قرار دیا لیکن واقعہ حقیقت نِکلا، ادارے بے حسی دکھاتے رہے اور واقعے کو جھوٹ قرار دیتے رہے، واسا اور  ریسکیو دونوں تردید کرتے رہے اور بوکھلاہٹ میں بیانات بدلتے رہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے  معاملہ دبانے کی بارہا مکمل کوشش کی گئی، ظلم کی انتہا یہ تھی کہ اطلاع دینے والوں  کو ہی پکڑ لیا، شوہر اور دو بھائیوں کو چھ گھنٹے تک پولیس نے حراست میں رکھا اور بلا?خر خاتوں کی لاش ملنے پر  شوہر اور دو بھائیوں کو چھوڑ دیا گیا۔پولیس نے بعدازاں سعدیہ کے والد ساجد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے کر لیا، مقدمہ پراجیکٹ انچارج میجر اصغر  سندھو، سیفٹی انچارج دانیال،  سائیٹ انچارج  اینڈ  نواز کے خلاف درج کیا گیا، ایف آئی آر کے منتن کے مطابق ملزمان نے میں ہول کْھلا چھوڑ کر نہایت غفلت و لاپروائی کی.مریم نواز نے تو اپنا حق ادا کر دیا لیکن ایک بات وزیر اعلی مریم نواز سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے قانون (ضابطہ فوجداری اور آئین) کے تحت کسی شہری کو بغیر جرم یا وجہ بتائے بغیر حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے، جس پر متعلقہ پولیس افسر کے خلاف تعزیرات پاکستان کے(پی پی سی) کی دفعات  342 (غلط حراست) اور (348) (اعتراف جرم کے لئے غلط حراست)کے تحت  کاروائی ہو سکتی ہے، یہ بنیادی انسانی حقوق (آئین پاکستان آرٹیکل 9۔ 10) کی خلاف ورزی ہے۔ تعزیراتی پاکستان (پی پی سی) دفعہ 342 اگر پولیس بغیر کسی قانونی جواز کے کسی کو حراست میں رکھے تو اس دفعہ کے تحت  ایک سال تک قید اور جرمانہ پو سکتا ہے اور تعزیرات پاکستان (پی پی سی) دفعہ 348 اگر حراست کا مقصد کسی نے کوئی بات منوانا یا تشدد کرنا تو یہ دفعہ لگتی ہے۔پولیس آرڈر 2002 / دیگر قوانین: غیر قانونی گرفتاری پر پولیس افسر کو ملازمت سے معطل یا فارغ بھی کیا جا سکتا ہے۔ محترمہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز آپ نے اپنے عہدہ پہ فائز رہ کر عہدہ کا حقیقی حق ادا کیا جس کے لئے آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ سے یہی امید  رکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ منصفانہ فیصلے کرتی رہیں گی، اگر آپ اسی طرح اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتی رہیں تو یقینا پاکستان کی تقدیر کو بدلنے سے کوئی طاقت رکاوٹ کا سبب نہیں بن سکتی،  دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ میرے لئے ہر وہ لیڈر قابل احترام ہے جو انسانی حقوق کے لئے  انسانیت کے طبقات کی نفی کرتا ہے اور منصفانہ فیصلوں کو اول ترجیح دیتا ہے، اپنے عہدہ کا حقیقی استعمال عملاً نبھاتا ہے، ایسے ہی سیاستدان ہوتے ہیں جو صدیوں بعد بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔