کال سینٹرز پر تین سو ملین کی خوردبرد کا الزام ، پندرہ لاکھ کی وصولی ، تین افراد کا علم نہیں کہاں ہیں، پانچ لوگ ضمانت پر ہیں تین لوگ ہمارے پاس ہیں، کیس کو ہم وفاق کی اینٹی کرپشن ایجنسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں،ایف آئی اے حکام کی بریفنگ
اسلام آباد(آئی این پی )ایف آئی اے نے ملک بھر میں جعلی کال سینٹرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں غیر قانونی کال سینٹرز کی جانب سے وصول کردہ ماہانہ 1.5 کروڑ روپے کی خوردبرد کا معاملہ زیر غور آیا۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ اینٹی کرپشن ونگ کا کیس ہے۔ اس کیس میں تیرہ ملزمان کے خلاف ایف ائی آر ہیں۔ انھوں نے خوردبرد کی۔ یہ غیر قانونی کال سینٹرز کا معاملہ ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ کال سینٹرز پر تین سو ملین کی خوردبرد کا الزام ہے۔ ابھی تک کیس میں پندرہ لاکھ روپے کی ایک سب انسپیکٹر سے وصولی کی گئی ہے۔ تین افراد کا علم نہیں کہاں ہیں۔ پانچ لوگ ضمانت پر ہیں۔ تین لوگ ہمارے پاس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تحقیق آگے بڑھے تو دوسرے محکموں کے لوگ بھی آ سکتے ہیں۔ کال سینٹرز کافی عرصے سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ اس سال 271 ایف ائی اے افسران کو penalize کیا گیا۔ یہ ایف ائی اے کیسز کا 5.8 فیصد بنتا ہے۔سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ کال سینٹرز کا معاملہ سالہ سال سے ہے۔ سابق وزیر رحمان ملک نے بتایا تھا کہ گاڑی کی ڈگی میں سامان رکھ کر کال سینٹرز چل رہے ہیں ، ان میں سرکاری افسران شامل ہیں جن کی گاڑی میں کال سینٹرز بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آپ ان مجرموں کو کارروائی سے پہلے کیسے پکڑ سکتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ یہ کال سینٹرز امریکا برطانیہ میں ہیں؟ دنیا اپنے ملکوں میں ان کال سینٹرز کو ختم کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں۔ ہمارے کال سینٹرز سے ساری دنیا کو شکایت ہے