برائے نام سی جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے، کسی صوبے میں منتخب حکومت نہیں، اِس بات کا کسی کو احساس نہیں، ہم اس کے متاثرہ ہیں
علماء دین کی تعلیمات دیتے ہیں کبھی کبھی کام سے تھک کر مزاح بھی کرتے ہیں، مزاح کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے
ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تا کہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے‘ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، جو نئی بات آ جائے ہر کوئی اس کوپکڑ لیتا ہے
لاہور(خصوصی رپورٹر) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے۔جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اْنہوں نے کہا سیاسی زندگی میں میرا ایک سوال رہا ہے ، کسی بھی میدان میں کہیں نہ کہیں ہماری کمیاں رہی ہیں، خاص طور پر میڈیا کا جو مزاج ، کام اور مختلف پہلو اسلام کے متصادم رہا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے۔ علماء دین کی تعلیمات دیتے ہیں کبھی کبھی وہ کام سے تھک کر مزاح بھی کرتے ہیں، علما اکرام کے مزاح کو تنقید بنایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضیک کی جاتی ہے، اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالا جاتا ہے مگر سوشل میڈیا اور میڈیا منفی انداز سے اِسے دیکھتا ہے۔ یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے، خبر کی تصدیق کرو، اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر کے کر آتا ہے تو پہلے اس پہ تحقیق کرو، ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تا کہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے۔ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، جو نئی بات آ جائے ہر کوئی اس پکڑ لیتا ہے، جس کی سمجھ میں جو بات آئی اْس نے وہ ہی شروع کر دی ، دنیا میں مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر آزادی کی خاطر ہماری قربانیاں نمایاں ہیں۔انہوںنے کہا دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں ہے ، جس کہ پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے،امریکہ جب چاہے کہیں بھی گھس جاتا ہے ، روس بھی اس کے پیچھے ہے، ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اِس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے۔ ایک برائے نام سی جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے، ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں، اِس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پہ گزری ہے۔ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، چھبیسویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال کے اندر ہی نئی ترمیم آ گئی، ستائیسویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے۔ سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ہے اب فیصلے پنڈی میں ہو رہے، ہماری عوام اِس سے لاعلم ہے، علما پر فتوے لگانا یہ کون لوگ؟ جو اس طرح کے فتوے لگاتے ہیں اِن لوگوں نے جھوٹی احادیث گھڑ رکھی ہیں،یہ ضعیف احادیث بیان کرتے ہیں۔