ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ، ہاتھ خارش کر رہے ہیں آئیں ایک میز پر بیٹھیں ‘ نیا میثاق جمہوریت کریں مولانا فضل الرحمن

ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں لے جانا چاہیے، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کیلئے تیار نہیں، بات چیت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں
ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے،، خیبرپختونخوا میں معدنیات کے معاملے پر دہشتگردی کے الزام کے پیچھے چھپا جا رہا ہے:قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد (آئی این پی )جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے ئے   حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں لے جانا چاہیئے، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کیلئے تیار نہیں،یہ ملک کسی فوجی کسی جرنیل کا نہیں ہم سب کا ہے‘ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے،ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا، خیبرپختونخوا میں معدنیات کے معاملے پر دہشتگردی کے الزام کے پیچھے چھپا جا رہا ہے۔ان  خیالات کااظہار انہوں نے قومی اسمبلی   اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کیا  ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی اور خراب حالات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا  کی منتخب حکومت کو ہٹا کر وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، تو پھر بلوچستان میں بھی حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں، لہذا اگر یہی اصول ہے تو وہاں بھی گورنر راج لگایا جانا چاہیئے، خیبرپختونخوا  میں دہشت گردی کے الزام کے پیچھے اصل محرک دراصل وہاں موجود معدنیات کے ذخائر پر قبضے کی کوششیں ہیں، اب تو معدنیات کی یہ باتیں خود گورنر کی جانب سے بھی کی جا رہی ہیں۔انہوں نے  کہا کہ حکومت اگر ٹکر لینا چاہتی ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ حالات اس طرف نہ لے جائیں کہ ہم آپس میں بیٹھ بھی نہ سکیں۔ آئیں اور ملک کی خاطر نیا میثاق جمہوریت کریں۔انہوں نے کہا  ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ہیں، ہمارے ہاتھ خارش کر رہے ہیں لڑنے کے لئے، آئیں ایک میز پر بیٹھیں اور نیا میثاق جمہوریت کریں، اس میں حکومت بھی ہو اپوزیشن بھی ہو۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دفاعی معاہدہ کہیں ہورہا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف یہاں بیٹھے ہیں،  تہران میں مذاکرات ہورہے ہیں وزیر اعظم اور وزیر دفاع یہاں پر ہیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے،اپنی عزت اور وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، اس بات کو مدنظر رکھیں۔