کانفرنس کا مقصد پورا نہیں ہو گا اگر ہم افغان لڑکیوں کی تعلیم کی بات نہ کریں، ہمیں یہ بات واضح کرنی چاہیے اس میں کچھ بھی اسلامی نہیں
غزہ میں اسرائیل نے پورا تعلیمی نظام تباہ کردیا، میرا دل ہمیشہ پاکستان میں رہتا ہے،نوبیل امن انعام یافتہ کا عالمی کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی)نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے افغانستان میں بر سر اقتدار حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان خواتین کو انسان نہیں سمجھتے، ایک دہائی سے طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم، مواقع اور چیلنجز کے عنوان پر عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان سے میں نے اپنا سفر شروع کیا اور میرا دل ہمیشہ پاکستان میں رہتا ہے، مسلم ورلڈ لیگ کا شکریہ جنہوں نے ہمیں یہاں اکٹھا کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر لڑکی کا حق ہے کہ وہ 12 سال کے لیے سکول جائے، اس کانفرنس کا مقصد پورا نہیں ہو گا اگر ہم افغان لڑکیوں کی تعلیم کی بات نہ کریں، طالبان نے خواتین کے حقوق چھیننے کے لیے 100 سے زائد قانون سازیاں کی ہیں۔طالبان خواتین کو انسان نہیں سمجھتے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان اپنے جرائم کو ثقافت اور مذہبی جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں، ہمیں یہ بات بالکل واضح کرنی چاہیے کہ اس میں کچھ بھی اسلامی نہیں ہے، یہ پالیسیاں اسلام کی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتیں۔ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں، کسی بھی ثقافت یا مذہبی عذر سے اس کی جواز نہیں پیش کی جا سکتی۔عالمی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے فلسطین میں صہیونی ریاست کی جاری جارحیت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ غزہ میں اسرائیل نے پورا تعلیمی نظام تباہ کردیا، فلسطینی بچوں نے اپنی زندگیاں اور اپنا مستقبل قربان کردیا۔ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ دنیا میں120 ملین لڑکیاں اسکول نہیں جا سکتیں جبکہ پاکستان میں ساڑھے 12 ملین لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں۔ دنیا کے رنگوں میں پاکستانی لڑکیوں کا حصہ بھی درکار ہے، فاطمہ جناح نے آزادی اورانصاف کی جدوجہد کیلئے بہت کام کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ نے ملالہ یوسفزئی کو اعزازی شیلڈ بھی دی۔