امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی اجلاس ہوگا، جس میں غزہ کی تعمیر نو، امن قائم کرنے اور استحکام کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز اور فوجی فورسز کی تعیناتی کا منصوبہ سامنے آئے گا، ایک بڑی پیش رفت ہے۔
اس اجلاس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود حصہ لیں گے، اور مختلف ممالک رضاکارانہ طور پر مالی امداد فراہم کرنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس (ISF) بھی تعینات کی جائے گی، جس کا مقصد جنگ کے بعد سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا اعلان، اور حماس کو غیر مسلح کرنے پر زور، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس منصوبے میں تمام فریقین کی شرکت اور تعاون ضروری ہے۔ حماس کی شرط کے مطابق، ہتھیار ڈالنے والوں کو معافی اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔مزید برآں، اجلاس میں غزہ کی سول انتظامیہ کی بحالی، انسانی امداد، اور پولیس نظام کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اقدام غزہ کے بحران کے سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی پہلوؤں کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔