حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم نے غزہ میں مکمل غیر مسلحی سے متعلق بورڈ آف پیس کے مجوزہ منصوبے سے اتفاق کر لیا ہے، جبکہ اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حماس کے سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ تنظیم نے منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اس کی تفصیلات پر مشتمل سرکاری بیان جلد جاری کیا جائے گا۔عہدیدار کے مطابق ہتھیاروں کی مرحلہ وار حوالگی اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا پر اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو بھی معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنائیں گے۔بی بی سی کا کہنا ہے کہ اسے مجوزہ منصوبے کا متن بھی موصول ہو چکا ہے، جس کی مزید تفصیلات مرحلہ وار سامنے لائی جائیں گی۔تاہم تاحال حماس کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، جبکہ اسرائیل اور دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے بھی اس پیش رفت پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو اسے غزہ میں امن کوششوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔