محمود اچکزئی آج سے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دھرنا
دھرنا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات،مکمل علاج تک جاری رہے گا:اپوزیشن قائدین مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی:اچکزئی،ماہرین کی حتمی رپورٹ کے بعد صحت ، آنکھ سے متعلق رائے قائم ہوگی عدالتی سزائوں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا: ذرائع
اسلام آباد(بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک)اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے رہنمائوں کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مکمل علاج تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہائوس کے مرکزی دروازے پر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی۔ تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ ہائوس پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق دھرنے کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد قائدین کی مشاورت کے دوران ہوا۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہیکہ آج سے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر پر امن احتجاجی دھرنا ہوگا، مطالبات ہم دھرنے میں رکھیں گے، ہمارے مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا، مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔ذمہ دار ذرائع کا کہناہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ طبی ماہرین کی سفارش سے مشروط ہے، اگر متعلقہ ڈاکٹرز نے سفارش کی تو بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سفارشات سپیشلائزڈ ڈاکٹر ز آئندہ معائنے کے بعد تیار کرینگے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ماہر ڈاکٹرز سے 16 فروری سے قبل کروایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اور انکی آنکھ سے متعلق رائے متعلقہ طبی ماہرین کی حتمی رپورٹ کے بعد ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور پشاور میں ہونے والے اجلاسوں میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی شرکت کو ڈیل یا ڈھیل سے جوڑنا ایک غلط تاثر ہے ، بانی پی ٹی آئی کے کیسز کا معاملہ قانون کے مطابق عدالتی فیصلوں سے جڑا ہے ، انکی صحت کے معاملات کو کسی بیک ڈور ڈیل سے جوڑنا درست نہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ سلمان صفدر کا جیل جانا اور اعلیٰ عدلیہ کو تفصیلات بتانا قانون کی حکمرانی کا مظہر ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ بنانا اور انکی رپورٹ کو پبلک کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایسے معاملات مکمل شفافیت سے طے پا رہے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ ملکی سلامتی اور عوامی مفاد کیلئے سیاسی قوتوں کے رابطے ایک روٹین کا معاملہ ہے اور بانی پی ٹی آئی کے معاملے کو قانون کے مطابق ہی ڈیل کیا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ عدالتی سزائوں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا کیسز کو قانون کے مطابق عدالتوں کے فیصلے کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔