صدر‘وزیراعظم ملاقات‘رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
ترکیہ، پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں کردار ادا کر سکتے ہیں‘ پاکستان برادرانہ تعلقات کی مزید مضبوطی کیساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ کا خواہاں ہے:شہبازشریف کی ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹرکے وفد سے ملاقات میں گفتگو
عالمی برادری کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے موثر اقدامات کرے، پاکستان عالمی امن اور منصفانہ نظام کے قیام کیلئے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا: انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پیغام
اسلام آباد (آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنانے اور مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنما بھی موجود تھے، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اہم قومی اور داخلی سلامتی کے امور اور آزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب پر مشاورت ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں غزہ امن بورڈ اور پاکستان کے نکتہ نظر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دریں ثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز کی سربراہی میں 4 رکنی وفد نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے ترکیہ سمیت دیگر ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی بدولت زرعی شعبے میں جدت سے مستفید ہونے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات کی مزید مضبوطی کے ساتھ ساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ کا بھی خواہاں ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برادر ملک ترکیہ سے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کہ بے شمار مواقع موجود ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ترکیہ کے زرعی اجناس اور لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہونے والی ترقی کی طرح پاکستان کے زرعی شعبے کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘علاوہ ازیں وزیراعظم نے تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات انسانیت، برداشت اور رواداری کی اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں ہمارے غیر متزلزل عزم کی روشن مثال ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام اعتدال، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے اور نوجوان نسل کو معیاری تعلیم اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے