کسی فوجی جوان کا گھریلو مسئلہ ہے،اگر پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کرلی جائے،تو کیا دوسرے شادی والے کو ملٹری کورٹ بھیجا جائے گا؟ :جسٹس جمال مندوخیل
اگر کوئی سویلین مڈل مین دشمن ملک کے ورغلانے پر راز ان کے حوالے کر دے تو اسکا ٹرائل کہاں ہوگا؟ جسٹس حسن اظہررضوی‘ اس کا ٹرائل آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہوگا:وکیل
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے روبروفوجی عدالتوں میںسویلینزکے ٹرائل سے متعلقہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھاہے کہ اگر کسی فوجی جوان کا گھریلو مسئلہ ہے،اگر پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کرلی جائے،تو کیا دوسرے شادی والے کو ملٹری کورٹ بھیجا جائے گا آرمڈفورسزکی نجی زندگی سمیت گھریلوجرائم پربات کرتے ہوئے کئی سوالات اٹھادیے ہیں بدھ کے روزجسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آرمڈفورسز کا کوئی شخص گھر بیٹھے کوئی جرم کرتا ہے تو کیا آرمی ایکٹ لگے گا، سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ مثال کے طور پر پنجاب میں پتنگ اڑانا منع ہے،پنجاب میں کوئی ملٹری اہلکار گھر میں پتنگ اڑاتا ہے تو ملٹری ٹرائل نہیں ہوگا، اس پر بھی سویلین والا قانون لاگو ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ اگر کسی فوجی جوان کا گھریلو مسئلہ ہے،اگر پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کرلی جائے،تو کیا دوسرے شادی والے کو ملٹری کورٹ بھیجا جائے گا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آرٹیکل ٹو ون ڈی کو ہر مرتبہ سپریم کورٹ کیوں دیکھے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ لیگل فریم ورک تبدیل ہو جائے تو جوڈیشل ریویو کیا جاسکتا ہے،آرٹیکل آٹھ3کا استثناٹوون ڈی کیلئے دستیاب نہیںجسٹس نعیم اختر افغان نے سلمان اکرم راجا کو مخاطب کرکے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا ہوں، برا نہ مانیے گا، آپ کی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ آجکل سیاسی وابستگی بھی ہے، جب آپ کی سیاسی پارٹی کی حکومت تھی اس وقت آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی، اس وقت پارلیمنٹ نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی۔سلمان اکرم راجا نے موقف اختیار کیا میں اس وقت پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھا، میں تو ہمیشہ اپوزیشن والی سائیڈ پر رہا۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جاسوس پکڑا جاتا ہے تو اس کا ٹرائل کہاں کریں گے؟ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے آپ کو بتانا پڑے گا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا کس پر ہے؟ سلمان اکرم راجا نے کہا ایسا نہیں کہ ٹو ون ڈی کے بغیر ریاست کا کاروبار نہیں چل سکتا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا اگر کوئی سویلین مڈل مین دشمن ملک کے ورغلانے پر راز ان کے حوالے کر دے تو اسکا ٹرائل کہاں ہوگا؟ سلمان اکرم راجا نے موقف اپنایا اس کا ٹرائل آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہوگا، آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کا مکمل طریقہ کار موجود ہے‘کیس کی سماعت آج بھی ہوگی