صدر کا ججوں کی ٹرانسفرکا نوٹیفکیشن بے اثر، قانوناً کوئی حیثیت نہیں رکھتا جسٹس نعیم اختر‘جسٹس شکیل احمد

سپریم کورٹ  ججز تبادلہ کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان کا اختلافی نوٹ 40 صفحات پر مشتمل  ہے‘اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط کا حوالہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت اور دباؤ کا ذکر
صدر مملکت نے بغیر شفاف معیار اور بامعنی مشاورت کے ججز کی منتقلی کا فیصلہ کیا، جو غیر آئینی، بدنیتی پر مبنی اور غیر ضروری جلدی میں جاری ہونے والا نوٹیفکیشن ہے:اختلافی نوٹ
اسلام آباد (آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا ہے۔ اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ صدر پاکستان کا ججز ٹرانسفر نوٹیفکیشن بے اثر اور قانوناً کوئی حیثیت نہ رکھنے والا ہے، آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر صرف عارضی ہو سکتا ہے، مستقل نہیں۔جسٹس نعیم اختر افغان کا تحریر کردہ اختلافی نوٹ 40 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ججز کی مستقل منتقلی آئین کے آرٹیکل 200 کے خلاف ہے۔اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا  آئین کے تحت ججز کا تبادلہ صرف عارضی ہو سکتا ہے، مستقل نہیں۔ صدر مملکت نے بغیر شفاف معیار اور بامعنی مشاورت کے ججز کی منتقلی کا فیصلہ کیا، جو غیر آئینی، بدنیتی پر مبنی اور غیر ضروری جلدی میں جاری ہونے والا نوٹیفکیشن ہے۔ نوٹ کے مطابق صدر پاکستان کا جاری کردہ یہ نوٹیفکیشن بے اثر اور قانونی حیثیت سے عاری ہے۔مزید کہا گیا  تبادلے کا عمل عدالتی آزادی اور ججز تقرری کے آئینی طریقہ کار کے منافی ہے۔ اختلافی نوٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے اس خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدالتی امور میں مبینہ مداخلت کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔خط میں ججز نے دباؤ، بلیک میلنگ، غیر قانونی نگرانی اور سیاسی مقدمات میں فیصلوں کو انجینئر کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔ ججز نے اس خط میں چیف جسٹس سے عدالتی کنونشن بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی خط ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ منتقلی کے فیصلے کا سبب بنا، حکومت نے خط سامنے آنے کے بعد جلد بازی میں ججز کی مستقل منتقلی کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد اسلام آباد ہائیکورٹ کی آزادی پر اثر انداز ہونا تھا۔