مقامی سطح پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جھگڑے بڑی بدنصیبی ہے، پارٹی اسی وجہ سے بہت ساری سیٹیں گنوا دیتی ہے، اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اندرونی لڑائی کو باہر رکھا جائے
پا رٹی کے ذمہ دار گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کیلئے ٹکٹ طلب کریں ‘ درخواستیں موصول ہونے پر خود مظفر آباد، گلگت یا سکردو جاؤں گا اور تمام امیدواروں سے ملوں گا :وفد سے گفتگو
لاہور(سپیشل رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مطالبے سے پہلے ہی نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں حصہ دینا چاہیے۔زیراعظم شہباز شریف کو پارٹی کا یہ پیغام پہنچائیں اور شہباز شریف سے خود بھی بات کروں گا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی کے تحت فنڈز ملنے چاہئیں اور یہ کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے کہ فنڈز میں کمی یا زیادہ کرے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے کہا انتخابات کے لیے بہترین امیدواروں کا انتخاب کرنا چاہیے، ہمارے پکے ساتھیوں کو انتخابات کے لیے میرٹ پر ٹکٹ دیا جائے، اس میرٹ کو نافذ کرنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے پارٹی کے فیصلے میرٹ پر ہونے چاہیے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، مقامی سطح پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جھگڑے ہیں وہ بڑی بدنصیبی ہے، پارٹی اسی وجہ سے بہت ساری سیٹیں گنوا دیتی ہے، اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر کوئی اندرونی لڑائی میں ملوث ہے تو اس کو باہر رکھا جائے، اس کو درمیان میں لا کر اپنے سارے معاملات خراب نہیں کرنے ہیں، یہ ہمارا اصولی فیصلے ہے، اس کو کسی قیمت برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا فضا اچھی ہے پارٹی کو اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، اس فضا کو دیکھ کر بہت سارے لوگ ٹکٹ کے لیے آئیں گے لیکن ہمیں اپنے اور پرائے کی پہچان رکھنی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ بجائے گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر سے آئے وفاقی حکومت کو خود کرنا چاہیے، میں وزیراعظم سے بات کروں گا، لیکن ان صوبوں میں ہم نے جو سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہ این ایف سی سے بھی زیادہ ہے۔انہوں نے کہا صوبوں کے فنڈز وہاں کے حقوق کے مطابق ملنے چاہئیں، اس کے علاوہ وفاقی حکومت اپنی مرضی سے خرچ کرنا چاہے تو کریں لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ کیا صوبوں میں اتنا پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت ہے تو میں جانتا ہوں نہیں ہے، نہ آزاد کشمیر اور نہ ہی گلگت بلتستان میں گنجائش ہے، اگر وفاقی حکومت پیسے دے بھی دے تو وہاں خرچ نہیں ہوتے اور وہاں استعمال نہیں ہوتے ہیں، اس لیے صلاحیت اور گنجائش پیدا کرنا ضروری ہے۔انہوں نے پارٹی ذمہ داروں کو ہدایت کی وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے ٹکٹس طلب کریں اور جب درخواستیں موصول ہوں تو میں خود مظفر آباد، گلگت یا سکردو جاؤں گا اور تمام امیدواروں سے ملوں گا اور گفتگو کرکے کسی نتیجے پر باآسانی پہنچ جائیں گے اور سیاسی حوالے سے معلومات مل جائیں گی۔