پاکستان عالمی امن کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، تنازعات کا پرامن حل خارجہ پالیسی کا ستون ہے ‘مشرق وسطی میں جنگ بندی اور امداد کی فراہمی ضروری ہے:وزیراعظم

افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ اٹھ رہا ہے شہبازشریف
 پاکستان کی حمایت سے غزہ میں امن منصوبہ منظور ہوا، جنگ بندی کیلئے   تعاون پر سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، اردن اور ایران کے مشکور ہیں:وزیر اعظم کا ترکمانستان میں عالمی  امن  فورم سے خطاب 
پاکستان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیہ کے  تجربے سے مستفید ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے،   دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح کے تبادلے  جلد ہوں گے :وزیر اعظم کی   ترکیہ کے  صدر سے ملاقات میں گفتگو
اشک آباد (آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف  نے کہا  ہے دہشتگردی کا نیا خطرہ افغانستان سے اٹھ رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے  زور ڈالے۔  ان خیالا ت کا اظہار   اشک آباد میںترکمانستان کی 30سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے  منعقدہ   عالمی امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ  اشک آباد کے شاندار شہر میں ہونا میرے لئے  باعث مسرت ہے، سفید سنگ مرمرکی خوبصورتی اورترکمان عوام کی گرمجوشی قابل تعریف ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکمانستان کی مہمان نوازی اپنی مثال آپ ہے، 2025کو بین الاقوامی سال امن واعتماد قراردینا خوش آئند ہے، پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں ذمہ داریاں سنبھالیں، دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سراٹھا رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی لئے  زور ڈالے۔ان کا کہنا ہے کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا، غزہ جنگ بندی کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا۔ان کا  کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد2788پاکستان کے وژن کی تائید ہے، عرب اسلامی ممالک کے گروپ رکن کی حیثیت سے پاکستان کا امن مشن میں کردار ہے، مشرق وسطی میں دیر پا جنگ بندی اورانسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے۔جنگ بندی کیلئے   تعاون پر سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، اردن اور ایران کے مشکور ہیں،  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پائیدارامن اورپائیدار ترقی لازم وملزوم ہیں، 2030ایجنڈاعالمی ترقی کا جامع لائحہ عمل ہے، مالیاتی شمولیت اورخواتین کو معاشی دھارے میں لانا ہماری ترجیح ہے، پاکستان کا صاف اورسرسبز ترقیاتی ماڈل عالمی مثال ہے‘دریں اثناء  شہباز شریف نے کہا ہے  پاکستان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیہ کے  تجربے سے مستفید ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے،اس حوالے سے    دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح کے تبادلے بہت جلد ہوں گے،پاک افغان مذاکرات میں ترکیہ کے تعمیری کردار  پر شکریہ ،  امن تب ہی ممکن ہو گا جب پاکستان کے سلامتی کے خدشات کو پوری طرح سے حل کیا جائے۔  ۔ وزیر اعظم شہبازشریف  اشک آباد میں بین الاقوامی فورم کے موقع پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات  کی ہے ۔ملاقات  میں دونوں رہنمائوں  نے ترکیہ اور پاکستان کے مابین تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ رواں برس پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قیادت کی سطح پر ہونے والے مسلسل روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔