روس کیساتھ20معاہدوں پر دستخط خطے میں لڑائی فوری روکنا ناگزیر ہوچکا چینی صدر
مشرق وسطی میں مزید کشیدگی غیر دانشمندانہ ہو گی، دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے، موجودہ بحران کے حل کیلئے مذاکرات انتہائی اہم ہیں، عالمی صورتحال میں طاقت کی سیاست اور عالمی کشیدگی بڑھ رہی ہے
دنیا دوبارہ ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں صرف طاقتور کی بات سنی جائے،بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لئے مضبوط سٹریٹجک سہارا بنے رہیں گے: شی جن پنگ کی روسی صدر سے ملاقات میں گفتگو
بیجنگ (آن لائن) چین اور روس نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ قرار دیتے ہوئے کہا بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک سہارا بنے رہیں گے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کو بلا تعطل تیل اور گیس فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔چین اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔بیجنگ میں ہونے والی تقریب کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سب سے پہلے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے اور ہمسایہ و دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔اس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے تجارت، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے،مشرق وسطی میں مزید کشیدگی غیر دانشمندانہ ہو گی، خطے میں لڑائی کو فوری طور پر روکنا ناگریز ہوچکا ، موجودہ بحران کے حل کیلئے مذاکرات انتہائی اہم ہیں‘ چین اور روس کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور اب یہ ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے عالمی سطح پر استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔پیوٹن نے کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی امور میں خودمختار پالیسی اپنانے اور عالمی توازن برقرار رکھنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے