سول نافرمانی کا اعلان واپس لیاجائے : حکومت کی شرط، مطالبات میں کوئی لچک نہیں :پی ٹی آئی کا جواب

شہباز شریف مذاکرات سے پہلے ہی ڈیڈ لاک  بیر سٹر گوہر

 میز پر بیٹھ کر ہی بات چیت سے حل نکالا جاسکتا:رانا ثنا، تحریک لٹکا کر مذاکرات نہیں ہوسکتے:عرفان صدیقی،فیض حمید کو بچانے کیلئے مذاکرات کی کوشش کی جارہی :طلال ، ’’فیض یاب‘‘ ہونے کا وقت گزر چکا:شیری رحمن 
بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا ؟ شیخ وقاص،جو بھی بات کرنا چاہے بس وہ بااختیار ہو،عمر ایوب،انکوائری کمیشن بنایا جائے ، بیرسٹر گوہر،مذاکرات کرنے ہیں تو کریں ورنہ 14 دسمبر دور نہیں، شوکت یوسفزئی
اسلام آباد(بیورو رپورٹ، خصوصی رپورٹ )مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت اور پی ٹی آئی میں ڈیڈ لاک ، حکومت نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان واپس لینے کی شرط رکھدی جبکہ پی ٹی آئی نے جواب دیدیا حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے سول نافرمانی کا اعلان واپس لینے کی شرط رکھ دی، حکومتی ارکان نے کہا کہ سول نافرمانی کی تلوار لٹکا کر مذاکرات نہیں ہوسکتے، بات چیت کیلئے تیار ہیں، پی ٹی آئی پرانی روش ترک کرے، وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب ہم نے مذاکرات کی پیش کش کی تو پی ٹی آئی نے جواب میں کہا کہ حکومت کی کوئی اوقات نہیں، سیاسی جماعت سے رابطے کا مطلب مذاکرات نہیں تاہم ایک میز پر بیٹھ کر ہی بات چیت سے حل نکالا جاسکتا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں رابطے تو کبھی بھی ختم نہیں ہوتے، رابطے تو رہتے ہیں لیکن رابطے کو مذاکرات نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد آتے وقت تک پی ٹی آئی سے رابطے میں تھے مگر ان رابطوں کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا، جب ہم نے مذاکرات کا کہا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی اوقات اور حیثیت کیا ہے جو مذاکرات کریں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ڈیڑھ مہینہ پہلے فلور آف دی ہائوس پر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی اور کہا تھا کہ آئیں بیٹھ کر بات کریں، اب ہم نے سنا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہم سے ہی مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس سے پہلے وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات کر رہے تھے، مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھا جائے تو حل سامنے آتے ہیں۔سینیٹ میں خطاب کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک لٹکا کر مذاکرات نہیں ہوسکتے، تحریک انصاف کو پرانے طریقے ختم کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی بات کرنا چاہتی ہے تو بسم اللہ ہم تیار ہیں مگر تحریک انصاف کو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ سینیٹر طلال چودھری نے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ڈرامہ اور جھانسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیض حمید کو بچانے کیلئے مذاکرات کی کوشش کی جارہی ہے۔مجرموں سے مذاکرات نہیں ہونگے، جوکہتے تھے کہ چوروں سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اب کیوں ایسا کر رہے ہیں۔ طلال چودھری نے کہاکہ پی ٹی آئی اب گھبرا گئی ہے اس لئے مفاہمت کی بات کی جارہی ، نومئی کو بھولنے کیلئے 26مئی کا ڈرامہ رچایا گیا ،کوئی مذاکرات نہیں ہونگے جس میں مجرم شامل ہوں۔ ٹکر کے لوگ ملے ہیں کا طعنہ دینے والے اب دلیہ بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، ان کے’’فیض یاب‘‘ہونے کا وقت گزر چکا ، اب یہ کسی ناجائز طریقے سے ’’فیض یاب‘‘نہیں ہو سکتے۔پی ٹی آئی کو اپنے کیے پر معافی مانگنا پڑے گی۔معافی آپ مانگیں، ہم سے کس منہ سے معافی منگوا رہے ہیں۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ مطالبات کے حوالے سے کوئی لچک نہیں دکھا سکتے، سول نافرمانی بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے اور وہ ہی اسے واپس لے سکتے ہیں۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ غیر رسمی گفتگو کو باضابطہ مذاکرات کہنا درست نہیں ہے۔ وقاص اکرم نے کہا کہ ہماری جانب سے مطالبات کے معاملے پر کوئی لچک دکھانے والی بات نہیں ہے، ہم تو انصاف مانگ رہے ہیں ہم تو کہہ رہے ہیں کہ معاملات کو ایڈریس کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن تو یہ کہتے تھے کہ ایک بھی گولی نہیں چلی، اب ڈپٹی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہوائی فائرنگ ہوئی ہے ، ہمارے لیے سب راستے بند کر دیئے گئے تھے ، ہمارے پاس آپشنز نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی بنا کر بانی نے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا ہے، ہمارے خلاف جعلی مقدمات کو ختم کیا جائے۔شیخ وقاص نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان ہے کہ بانی 9 مئی کے وقت فیض حمید سے رابطے میں تھے ، ریکارڈ نکال لیا جائے اور بتایا جائے کہ کیسے رابطے میں تھے؟ اس معاملے میں ہماری پارٹی کا نام آیا تو ہم متعلقہ فورمز سے رابطہ کریں گے اور بتائیں گے کہ اصل حقائق یہ ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے تاہم ہم سب کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار ہیں، بانی نے کمیٹی بنا دی ہے، افراد کے نام بھی بتا دئیے ہیں، کمیٹی کے ارکان اب مذاکرات کے لئے دستیاب ہیں۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ سپیکر سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، سپیکر سے میں اور عامر ڈوگر نے گزشتہ روز ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی، ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب نے کہا کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی مذاکرات کرانے میں مثبت کردار ادا کریں تو اچھی بات ہے، ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ جو بھی ہم سے بات کرنا چاہے بس وہ بااختیار ہو۔پی ٹی آئی رہنمائوں سے ہیومن رائٹس کمیشن کے وفد کی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 26 نومبر واقعے پر انکوائری کمیشن بنایا جائے، ورکرز پر کچھ ثابت ہوتا ہے تو ہم سپورٹ نہیں کریں گے، عمر ایوب نے 24، 25 اور 26 نومبر کو پی ٹی آئی احتجاج کے واقعات پر بریفنگ دی۔اسد قیصر نے کہا کہ کچھ لوگوں پر احتجاج کی آڑ میں 9 مئی کی ایف آئی آر کروائی جا رہی ہیں، غریبوں کو اٹھایا گیا جن کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن وفد میں منیزے جہانگیر، ناصر زیدی، سعدیہ غفاری، خوشحال خان، محمد آصف شامل تھے۔تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ بانی نے مذاکرات کا ایک موقع دیا ہے، اگر مذاکرات کرنے ہیں تو کریں ورنہ 14 دسمبر دور نہیں۔ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر یہ سنجیدہ ہیں تو سیاسی استحکام لائیں، پہلے یہ کہتے تھے ہم سیاسی لوگ نہیں مذاکرات نہیں کرتے، حکومت کی شروع دن سے پالیسی ہے پی ٹی آئی کو مارا جائے۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ عدالتی اور سیاسی جنگ ہم لڑ رہے ہیں، حکومت کو غیرسنجیدہ رویہ نہیں اپنانا چاہئے، ہم سیاسی لوگ ہیں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، تحریک انصاف احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹی، اگر حکومت ڈائیلاگ نہیں کرے گی تو پھر ہمارے لوگ بھی مخالفت کریں گے، نہیں معلوم حکومت اس وقت کس رعونت میں ہے، مذاکرات ہماری کوئی مجبوری نہیں ہے۔