پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 24 نومبر کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر حکومتی شخصیات کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے یہ درخواست بیرسٹر گوہر کی وساطت سے دائر کی گئی ہے، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، آئی جی پولیس، ایس ایس پی، ڈی آئی جی، اور دیگر حکام کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔کرمنل کمپلینٹ میں 24 نومبر کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے پی ٹی آئی کے 38 کارکنوں کی فہرست بھی منسلک کی گئی ہے، جبکہ 139 لاپتا کارکنوں کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔ درخواست میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ فریقین نے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں پر تشدد کیا اور انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کیا۔
پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کرمنل کمپلینٹ کو منظور کرتے ہوئے مذکورہ فریقین کو طلب کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔اس درخواست میں پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے 2 وزیروں اور 2 ارکان صوبائی اسمبلی کو بطور گواہ شامل کیا گیا ہے، اور عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریقین کے ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیے جائیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ پی ٹی آئی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔یہ درخواست 24 نومبر کو ہونے والے احتجاج کی پس منظر میں دائر کی گئی ہے، جس کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، اور کئی کارکن زخمی ہوئے یا لاپتا ہو گئے۔ پی ٹی آئی نے اس واقعے کو حکومت کی جانب سے ظلم و تشدد کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔