جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کراچی میں ایم کیو ایم اور دیگر مسائل پر سخت بیانات دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 7 ارب روپے ایم کیو ایم کو اس لیے دیے گئے ہیں تاکہ وہ کسی بھی معاملے پر خاموش رہیں۔ اس بات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔منعم ظفر نے جناح ٹاؤن میں گزشتہ روز ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یوسی 5 جناح ٹاؤن میں ایم کیو ایم کے افراد نے یوسی چیئرمین اور دیگر افراد کو زد و کوب کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فارم 47 کے تحت مسلط کیے گئے افراد کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے ایم کیو ایم پر شہر میں بھتہ خوری اور لاشوں کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کے الیکٹرک پر بھی شدید تنقید کی، کہ یہ ادارہ گزشتہ 19 سالوں میں نہ تو جنریشن میں کوئی پیشرفت کر سکا اور نہ ہی ڈسٹری بیوشن میں۔ منعم ظفر نے کہا کہ سردیوں میں بھی کراچی میں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔
انہوں نے نیپرا کو کے الیکٹرک کا "ربڑ اسٹیمپ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے 5 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا، لیکن کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی۔ منعم ظفر نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کا لائسنس ختم کر دیا جائے اور شہر کو این ٹی ڈی سی سے براہ راست بجلی فراہم کی جائے۔کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی انہوں نے شدید تنقید کی، کہا کہ دوسرے صوبوں میں منصوبے 11 ماہ میں مکمل ہو جاتے ہیں، جبکہ کراچی میں ان منصوبوں پر کئی سالوں سے کام جاری ہے۔ انہوں نے ریڈ لائن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 35 مہینوں سے اس پر کام ہو رہا ہے لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔آخر میں، منعم ظفر نے آصف زرداری پر بھی کرپشن کے حوالے سے سخت الفاظ میں ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اگر وہ کرپشن ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ قیامت کا منظر ہے۔