ریاستی اداروں کا خسارہ سیکڑوں ارب روپے سالانہ ہے:اعظم نذیر تارڑ

ریاستی اداروں کا خسارہ سیکڑوں ارب روپے سالانہ ہے:اعظم نذیر تارڑ

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) کا خسارہ سالانہ سیکڑوں ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، بلکہ سازگار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ نجی شعبے کے لیے کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکیں۔اعظم نذیر تارڑ نے حکومت کی پچھلی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں میں بہت زیادہ ملوث ہو چکی تھی اور اس کا اثر ریاستی اداروں پر منفی پڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ اور ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ کیڈ (کابینہ ڈویژن) اور پی ڈبلیو ڈی (پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ) کو ختم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ملازمین جو اپنی سروسز کی معیاد پوری کر چکے ہیں، انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ دی جائے گی۔

 جن ملازمین کی سروسز کی مدت ابھی 7 سال تک ہے، ان کو بھی پیکجز دے کر ریٹائر کیا جائے گا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ باقی ملازمین کے لیے سرپلس پول کی آپشن رکھی جائے گی تاکہ ان کی مستقبل میں مدد کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ رائٹ سائزنگ کا مقصد لوگوں کو بے روزگار کرنا نہیں ہے بلکہ یہ عمل قانونی فریم ورک کے اندر ہوگا، اور تمام تر اقدامات قانونی طور پر کیے جائیں گے۔وزیرِ قانون نے یہ بھی کہا کہ کئی محکموں میں تنظیم نو کی جا رہی ہے اور محکموں کی تراش خراش کی جا رہی ہے تاکہ ملک کے اداروں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔