ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈ آج سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں انہوں نے وزارت خارجہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی موجودگی میں استقبال کیا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے مابین وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورتحال، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران پاکستان اور ناروے کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ناروے کے ساتھ اپنی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان 78 سالہ تاریخی شراکت داری قائم ہے، جس میں ناروین کمپنیاں پاکستان کی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔اسپین نارتھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ناروے کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے تعلقات عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم ہیں، اور دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت کے خطے اور عالمی امن کے لیے کردار کو سراہا، خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا۔
مذاکرات کے دوران فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں حالیہ ایران-امریکہ تنازع اور پاکستان کی تعمیری کردار کی تعریف شامل ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کا اہم کردار ہے، جبکہ کئی ناروین کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وفود کی سطح پر مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، اور دونوں فریقین نے پاکستان-ناروے تعلقات کو دوستانہ اور خوشگوار قرار دیتے ہوئے، علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے حالیہ ایران-امریکہ تنازع میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔