سردار حیدر احمد علی
لاہور کی شامیں بدل گئی ہیں۔ کبھی شام ڈھلتے ہی لوگ گھروں کا رخ کرتے تھے، دوست احباب کسی کے ڈرائنگ روم میں جمع ہوتے تھے، چائے کی دیگچی چڑھتی تھی اور گفتگو گھنٹوں چلتی تھی۔ اب منظر کچھ اور ہے۔ گاڑی کا رخ کسی کیفے کی طرف ہوتا ہے، میز پر کافی کا کپ رکھا جاتا ہے، موبائل فون میز پر آتا ہے اور پھر گفتگو سے زیادہ تصویر، ویڈیو اور ’’وائب‘‘ اہم ہو جاتی ہے۔ Gen Z کے لیے کافی اب محض ایک مشروب نہیں رہی، یہ ایک طرزِ زندگی بن چکی ہے۔لاہور میں کیفے کلچر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اس تبدیلی کی واضح علامت ہے۔ حالیہ برسوں میں نوجوانوں کے لیے کیفے ملاقات، پڑھائی، کام، تفریح اور سوشل میڈیا سب کا مشترکہ مقام بن گئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی نسل کافی پینے نہیں، کافی ’’جینے‘‘ کیفے جاتی ہے۔ کپ میں کیا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کپ کیسا دکھائی دے رہا ہے، میز کہاں ہے، روشنی کتنی خوب صورت ہے اور تصویر انسٹاگرام پر کیسی لگے گی۔ کافی کا ذائقہ اپنی جگہ، مگر آج کل کافی کے ساتھ ایک ’’experience‘‘ بھی فروخت ہوتا ہے۔یہ تبدیلی صرف لاہور تک محدود نہیں۔ کراچی میں بھی شہری نوجوانوں میں کیفے اور کافی کلچر نے خاصی جگہ بنا لی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی مطالعے نے کراچی کی شہری نوجوان نسل میں کافی کیفے کو سماجی حیثیت، ثقافتی سرمایہ، self-presentation اور social belonging سے بھی جوڑا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر Gen Z کو کافی میں ایسا کیا مل گیا جو ہماری نسل کو چائے میں بھی نہیں ملا؟شاید جواب کافی سے زیادہ ’’اپنی شناخت‘‘ میں چھپا ہے۔
ہماری نسل کے لیے چائے تعلق کا بہانہ تھی۔ چائے آئی تو گفتگو شروع ہوئی۔ مہمان آیا تو چائے، دوست آیا تو چائے، غم آیا تو چائے، خوشی آئی تو چائے۔ چائے کے کپ میں معاشرتی قربت تھی۔ Gen Z نے اسی روایت کو ایک نئے انداز میں اپنایا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چائے کے کپ کی جگہ iced latte، cappuccino، americano یا cold brew نے لے لی ہے۔اور پھر موبائل فون نے اس پورے معاملے کو ایک نئی دنیا بنا دیا ہے۔آج کیفے صرف وہاں موجود لوگوں کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی ہوتا ہے جو موبائل کی دوسری طرف بیٹھے ہیں۔ نوجوان کافی کا کپ اٹھاتا ہے، تصویر بناتا ہے، story لگاتا ہے اور چند لمحوں میں اس کی شام ایک سماجی اعلان بن جاتی ہے۔ ’’میں یہاں ہوں، میں یہ کر رہا ہوں، میری دنیا ایسی ہے۔‘‘یہی وجہ ہے کہ آج کیفے کے اندرونی حصے بھی کافی کی طرح اہم ہو گئے ہیں۔ خوب صورت دیواریں، پودے، نرم روشنی، لکڑی کی میزیں، مخصوص موسیقی اور ایک ایسا گوشہ جہاں تصویر اچھی آئے—یہ سب اب کیفے کے کاروبار کا حصہ ہیں۔ عالمی سطح پر بھی Gen Z کے لیے cafés تیزی سے ایسے ’’third spaces‘‘ بن رہے ہیں جہاں لوگ گھر اور کام یا تعلیم کے علاوہ سماجی زندگی گزارتے ہیں۔لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔کافی کلچر نے نوجوانوں کو مل بیٹھنے کی نئی جگہیں تو دی ہیں، مگر اس نے سماجی مقابلے کو بھی بڑھایا ہے۔ کس کے کپڑے بہتر ہیں، کس کیفے کی تصویر زیادہ خوب صورت ہے، کس کے پاس مہنگا فون ہے، کس نے کون سی کافی منگوائی اور کس کی story پر زیادہ likes آئے—یہ سب ایک خاموش مقابلے کا حصہ بن چکا ہے۔یوں کافی کبھی کبھی کافی نہیں رہتی، status symbol بن جاتی ہے۔پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں چائے ہماری ثقافت کا بنیادی حصہ رہی ہے، وہاں کافی کا یہ سفر خاصا دلچسپ ہے۔ چائے کے ہوٹل میں بیٹھنے کے لیے عموماً بڑی جیب کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، مگر specialty coffee کا ایک کپ بعض اوقات اتنی قیمت رکھتا ہے جتنی میں پرانے زمانے کا پورا خاندان چائے پی لیتا تھا۔پھر بھی نوجوان کیفے کی طرف جا رہے ہیں، کیونکہ انہیں صرف مشروب نہیں چاہیے۔ انہیں جگہ چاہیے، ماحول چاہیے، دوست چاہیے، گفتگو چاہیے، privacy چاہیے اور کبھی کبھی صرف گھر سے باہر نکلنے کا بہانہ چاہیے۔شاید اسی لیے ہمیں Gen Z کو صرف یہ کہہ کر مسترد نہیں کر دینا چاہیے کہ ’’یہ بچے کافی پر پیسے ضائع کر رہے ہیں۔‘‘ ہر نسل اپنے دور کے مطابق سماجی جگہیں تلاش کرتی ہے۔ ہماری نسل کے پاس چائے کے ڈھابے، کلب، پارک اور ڈرائنگ روم تھے؛ نئی نسل کے پاس cafés، co-working spaces اور coffee shops ہیں۔اصل مسئلہ کافی نہیں، توازن ہے۔اگر کافی دوستوں کو قریب لاتی ہے، گفتگو پیدا کرتی ہے، پڑھائی یا کام کے لیے جگہ دیتی ہے اور نوجوان کو چند گھنٹوں کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرتی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ لیکن اگر کافی صرف دکھاوے، مقابلے اور مصنوعی زندگی کا ذریعہ بن جائے تو پھر کپ چاہے کتنا ہی خوب صورت ہو، اندر سے خالی رہتا ہے۔جنرل وارثی کی چائے سے Gen Z کی coffee تک سفر دراصل پاکستان کے بدلتے ہوئے شہری معاشرے کی کہانی ہے۔ ذائقہ بدل گیا، کپ بدل گیا، جگہ بدل گئی، مگر انسان کی بنیادی ضرورت نہیں بدلی: اسے اب بھی کسی کے ساتھ بیٹھنا ہے، بات کرنی ہے، ہنسنا ہے اور اپنی موجودگی محسوس کرنی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے محفل کے آخر میں کیتلی خالی ہوتی تھی، اب کافی کا کپ خالی ہونے سے پہلے Instagram story مکمل ہو جاتی ہے۔اور شاید آنے والے برسوں میں جب کوئی نئی نسل Gen Z کو دیکھ کر کہے گی کہ ’’یہ لوگ بھی عجیب تھے، ہر وقت کافی پیتے تھے‘‘ تو Gen Z بھی مسکرا کر کہے گی: ہم کافی نہیں پیتے تھے، ہم اپنے زمانے کو کپ میں گھول کر پیتے تھے