صرف جین زی کو مورد الزام ٹھہرانا کافی نہیں ہو گا۔

نازیہ آصف
ہمالیہ اور قراقرم کے درمیان ، بدھ مذہب کے پرامن پیروکاروں کی بہشت جو آجکل ان کے لیے جہنم بنی ہوئی ہے۔ آج سے چند سال پہلے دنیا اس خطے کو صرف خوبصورتی کے حوالے سے پہچانتی تھی ، یہاں کی عوام اس طرح کے فسادات کے نام سے بھی واقف نہ تھی مگر سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال  کی طرح یہاں بھی جین زی سرگرم ہو گء ہے ، یا بقول مودی میڈیا گرم کر دی گء ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معلومات تک رسائی ، احساس  محرومی، اشرافیہ کی چمک دمک، اور  اپنے خیالات و جذبات کو پل بھر میں دنیا تک پہنچانے کی سہولت نے نوجوانوں کو اس بات کا حوصلہ دیا یے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑ سکتے ہیں۔
جبکہ مودی خطے میں دوسرا نیتن یاھو بنا بیٹھا ہے۔ فاشسٹ جماعتوں کے سربراہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہیں۔ سونم دانگ چک جیسے پرامن بودھ سے مودی سرکار اس خوفزدہ ہے کہ اسے گرفتار کر لیا ہے۔سونم دانگ چک پیشے کے لحاظ سے کیمیکل انجینئر ہیں جنھوں نے اپنے علاقے کی عوام اور افواج کو موسم کی بے انتہا سختیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کتنے ہی اقدامات کیے ہیں۔
سونم دانگ گزشتہ دس ستمبر سے بھوک ہڑتال پہ تھے چودہ دن بعد جب ان کے دو  ساتھیوں کی طبیعت بگڑنے پہ انھیں ہسپتال پہنچایا گیا تو جین زی مشتعل ہو گء۔
اگر لیہہ کے جین زی کی ڈیمانڈز کا جائزہ لیا جائے تو اس میں قطعا کوئی غیر قانونی یا نامناسب بات بھی نہیں ہے۔ان کے مطالبات ہیں۔

1.full fledge statehood ladddakh.
2. Constitutional safeguard
2.lageslative and economic power.
4.additional Lok Sabha and Rajhia Sabha seats.

 یاد رہے کہ جب مودی سرکار نے 2019 میں کشمیر سے 379 کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا تھا تو سونم دانگ چک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار کے اس قدم کو بہت سراہا تھا انھیں امید تھی کہ اب شائد ان کے مطالبات سن لیے جائیں گے مگر حالات اس کے برعکس ہوگئے۔ علاقے کے باسیوں کو ان کے حقوق دینے کی بجائے مودی سرکار نے دلی اور بمبئے سے سرمایہ کار بھیجنے شروع کر دیے جو وہاں 
منصوبہ جات پہ کروڑوں انویسٹ کرنے کے پلان بنا نے لگ گئے ، اپنے علاقے کو یوں ہاتھوں سے جاتے دیکھ عوام میں احساس محرومی بڑھا۔
لیہہ کے اس علاقے میں اندازا %97 لوگ قبائلی سسٹم میں رہتے ہیں ، وہ اپنے کلچر اپنی روایات کے ساتھ ازحد وابستہ ہیں وہاں گریجوایٹس میں شرح بیروزگاری  %30 سے زیادہ ہے۔ جس سے احساس محرومی کو بہت زیادہ  بڑھاوا مل رہا ہے۔ 
اگرچہ لداخ کے اس علاقے میں سرکاری غیر سرکاری سطح پہ کء تنظیمیں کام کر رہی ہیں جن میں سونم صاحب کی این جی او بھی ہے۔ان کا ایجنڈا اپنے علاقے کے جنگلات، منرلز ، لینڈ اور جابز کے موقع مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک کی کمیابی پر قابو پانا بھی ہے اس کے علاؤہ وہ گرین کلائمیٹ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ جبکہ مودی سرکار نے 370 کے خاتمے کے بعد لیہہ کو اس کے حقوق دینے کی بجائے دہلی میں بیٹھ کر کنٹرول کر رہی ہے۔ جس سے وہاں کے ریسورسز مقامی عوام کی بجائے دوسرے شہروں سے جانے والے سرمایہ کار بٹور رہے ہیں۔
مثال کے طور پہ مودی سرکار نے وہاں کروڑوں ڈالر ایک ہیوی ویٹ قسم کاسولر سسٹم لگانے کا اعلان کیا یے جیسے وہاں کے مقامی باشندے  اپنی چراگاہوں ، لینڈ فارمز ، کاشت کاری کییے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ،اں کا خیال ہے کہ بایر سے آنے والے لوگ قبضہ گروپ ہوں گے جو ان کے قدرتی ذرائع آمدن، ثقافت اور ماحولیات کو نقصان پہنچائیں گے۔
اسی مد میں سونم دانگ چک کی تنظیم کو سوئس حکومت نے کچھ مالی مدد بھی فراہم کی تھی جس کی وجہ سے آج مودی حکومت اسے باغی اور دہشت گرد جیسے القابات سے بھی نواز رہی ہے۔
سرحدی علاقہ ، دہلی سے دوردارز اور مشکل گزار راستے،  بڑھتی آبادی اور مسائل کے پیش نظر لیہہ کی عوام قانون ساز اداروں میں اپنی نمائندگی بڑھانے پہ زور دے رہی ہے ، جو کہ غیر آئینی یا غیر ضروری بھی نہیں ہے۔
جبکہ عالم یہ ہے کہ سونم صاحب جودھپور جیل میں پڑے ہیں اور مودی سرکار سارا ملبہ چین پاکستان اور نیپال پہ ڈالنے کی کوشش میں ہے۔
میری نظر میں بہت ممکن ہے کہ عالمی طاقتیں یہ سب اپنے مقاصد کے لیے کر رہی ہوں مگر حکمران ، ججز، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ ، سب کو مل کر اپنا احتساب کرنا چاہیے ، 
کبھی علامہ اقبال فرماتے تھے کہ۔    
     "   آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں"
مگر اب جو  کیمرے کی آنکھ دیکھتی ہے وہ سوشل میڈیا کی زبان پہ آتے ہوئے دیر نہیں لگتی اور وہ محض چند سیکنڈز میں دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے اور اب ان کی تاحیات بلکہ نسل درنسل چلنے والی مراعات ، ہر قسم کی مفت خوریاں، ٹورز سب ختم ہونی چاہییں ، کیونکہ اس دنیا میں غریب کا بچہ بھی وہی حقوق رکھتا ہے جو امیر کا بچہ رکھتا ہے پہلے سب پوشیدہ تھا اب غریب کے صبر کا اختتام ہو چکا ہے۔
اب چاہے سری لنکا ہو ، چاہے بنگلہ دیش ہو نیپال یا لیہہ کا علاقہ ہو ، عوام کو اپنے حقوق کے لیے مزید آپ کے در پہ بیٹھے انتظار نہیں کرے گی ، بلکہ جین زی اپنے حقوق چھین لے گی اور پھر حکمران ، اشرافیہ کو تن چھپانے کے لیے کہڑا اور ڈوبنے کے لیے پانی بھی نہیں ملے گا۔