کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی صورتحال ہماری ذمہ داریاں اور حکومتی اقدامات،

راجہ طاہر محمود 

گزشتہ چند دنوں میں پاکستان کے مختلف حصوں خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی شدت اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ ان اچانک اور غیر متوقع بارشوں نے کئی وادیوں، ندی نالوں اور بستیوں کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ مکانات، کھڑی فصلیں اور انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا۔ یہ سانحات صرف موسمی تغیر (کلائمیٹ چینج) کا شاخسانہ نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں کہ ہم بطور قوم ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سب سے بڑا ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہے جو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ایسی ہنگامی صورتحال میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔ حالیہ سیلابی لہر کے دوران این ڈی ایم اے نے بروقت متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں روانہ کیں۔ فوج، پولیس اور مقامی رضاکاروں کے تعاون سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، ریلیف کیمپس قائم ہوئے اور ہنگامی بنیادوں پر خیمے، ادویات اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔
اسی طرح صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز بھی اپنے اپنے دائرہ اختیار میں سرگرم ہیں۔ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت نے متاثرہ دیہاتوں تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر سروس استعمال کی جبکہ گلگت بلتستان حکومت نے مقامی سطح پر کمیٹیاں بنا کر بحالی اور ریلیف کے عمل کو تیز کیا۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندانوں کے لیے نقد امداد اور عارضی رہائش فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کر سکیں۔اس مشکل گھڑی میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کو اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف حکومتی ادارے متحرک ہوں بلکہ عوامی ہمدردی اور عطیات کے ذریعے ریلیف سرگرمیوں کو تقویت مل سکے۔ میڈیا نے ایک پْل کا کردار ادا کیا ہے جو عوام کی آواز کو حکام تک اور حکام کے اقدامات کو عوام تک پہنچا رہا ہے۔ 
واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کبھی خشک سالی، کبھی گلیشیئرز کے پگھلنے سے آنے والے سیلاب اور کبھی کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں کہ ہمیں اپنی پالیسیوں، طرزِ زندگی اور بنیادی ڈھانچے کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔کلاؤڈ برسٹ کوئی نئی چیز نہیں، لیکن اس کی شدت اب کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب کم وقت میں کسی محدود علاقے میں غیر معمولی مقدار میں بارش ہو جائے۔ چونکہ ہمارے دیہات اور پہاڑی علاقے ایسے واقعات کے لیے تیار نہیں، اس لیے نقصان بڑھ جاتا ہے۔قدرتی آفات سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، مگر نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے عوام کو درج ذیل اقدامات پر عمل کرنا چاہیے خطرے کے علاقوں میں عارضی اور کچے مکان بنانے سے گریز کریں۔ مکانات کی تعمیر میں حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔جب محکمہ موسمیات یا ضلعی انتظامیہ کسی وارننگ کا اعلان کرے تو اسے سنجیدگی سے لیں اور فوری اقدامات کریں۔مقامی کمیونٹیز میں نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد اور ایمرجنسی ریسکیو کی تربیت دینی چاہیے تاکہ بروقت مدد مل سکے۔ جنگلات کی کٹائی روکنا اور شجرکاری کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے، کیونکہ درخت بارشوں کے پانی کو جذب کرنے اور زمینی کٹاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دیہات اور قصبوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیاں بنائی جائیں جو ایمرجنسی کی صورت میں رہنمائی فراہم کریں۔حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کے مقابلے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنائے۔ بڑے ڈیمز اور چھوٹے چیک ڈیمز کی تعمیر، ندی نالوں کی صفائی، جدید ڈرینج سسٹم اور زمین کے استعمال کے بہتر منصوبے اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی آگاہی شامل کر کے نئی نسل کو ذمہ دار بنانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔
کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب جیسے واقعات ہمارے لیے واضح پیغام ہیں کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں قدرتی آفات زیادہ بار بار اور شدید انداز میں سامنے آئیں گی۔ اس کے مقابلے کے لیے صرف حکومت پر انحصار کافی نہیں، بلکہ عوام، ادارے، میڈیا اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومتیں اپنی استطاعت کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، لیکن پائیدار حل اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم سب ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لیں اور اجتماعی کوششیں کریں۔ بصورت دیگر یہ طوفانی بارشیں اور اچانک آنے والے سیلاب ہمارے لیے مزید بڑے خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔