پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت سندھو دریا کا پانی روکنا چاہتا ہے اور اسے واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ پاکستان بھارت سے چھ دریاؤں کا پانی چھیننے کے اقدامات کر سکتا ہے۔
یہ بات بلاول بھٹو نے کینال کے افتتاح کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔
بلاول بھٹو کے اہم نکات:
بھارت کی پالیسیوں پر تنقید:
بلاول نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو نہ صرف جنگ میں شکست دی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی عبرتناک شکست دی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مودی سرکار انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے اور بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
کراچی میں پانی کی فراہمی:
حب ڈیم سے 100 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جائے گا۔لیاری کو پانی فراہم کرنے کا پی سی ون منظور ہو گیا ہے۔وزیر اعظم سے ملاقات کر کے پانی کی مقدار میں اضافے کی بات کی جائے گی۔
کراچی و حیدرآباد کے جیالوں کو خراج تحسین:
بلاول نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے جیالے دہشت گردوں اور نفرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں کھڑے رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلی بار کراچی و حیدرآباد کے جیالے میئر منتخب ہوئے ہیں، جس سے عوام نے نفرت پھیلانے والے سیاستدانوں کو پہچان لیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان:
20 سال بعد کراچی میں اضافی پانی پہنچے گا۔وعدہ کیا گیا ہے کہ 14 اگست تک کام مکمل ہو جائے گا۔دسمبر تک پرانی کینال کی مرمت مکمل کی جائے گی۔پانی کی مقدار میں اضافہ کیا جائے گا اور وفاقی حکومت سے درخواست ہوگی کہ حب ڈیم سے 200 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے۔کے فور کے کام سے مطمئن نہیں ہیں اور اس پر نظرثانی ضروری ہے۔
حاصل کلام:
یہ تقریب نہ صرف کراچی و حیدرآباد کے پانی کے بحران کے حل کے حوالے سے اہم ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعات پر بھی ایک واضح سیاسی پیغام سمجھا جا سکتا ہے۔ بلاول بھٹو اور سندھ حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ بھارتی حکام کے لیے سخت وارننگ بھی دی ہے۔