بیگم کو گھر سے نکالنے پر قید قومی اسمبلی میں بل پیش
خاتون کو گھر سے نکالنے کے مقدمات کی سماعت کا مجاز فرسٹ کلاس کا مجسٹریٹ ہو گا۔مجوزہ ترمیمی بل کو فوجداری قانون ترمیمی بل 2025ء کا نام دیا گیا ،ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی کے اجلاس میں بل پیش کر دیا گیا کہ بیگم کو گھر سے بے دخل کرنے پر قید کاٹنا ہو گی۔قومی اسمبلی میں خواتین کو غیر منصفانہ طور پر گھر سے بے دخل کرنے کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے لیے فوجداری قانون ترمیمی بل 2025ء پیش کر دیا گیا۔بل پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پیش کیا، جس کے تحت شوہر یا گھر کا کوئی بھی فرد اگر خاتون کو گھر سے نکالتا ہے تو اسے 3 سے 6 ماہ قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔قومی اسمبلی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور کرلیاقومی اسمبلی کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف شقوں میں ترامیم کا بل پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پیش کیا۔بل کی مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ شوہر یا گھر کے کسی فرد کی جانب سے غیر منصفانہ طور پر خاتون کو گھر سے نکالنا جرم قرار دیا جائے جبکہ خاتون کو گھر سے نکالنے پر 3 سے 6 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔مجوزہ ترمیم میں یہ کہا گیاہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔خاتون کو گھر سے نکالنے کے مقدمات کی سماعت کا مجاز فرسٹ کلاس کا مجسٹریٹ ہو گا۔مجوزہ ترمیمی بل کو فوجداری قانون ترمیمی بل 2025ء کا نام دیا گیا ہے۔ڈپٹی سپیکر نے بل کو مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔