عوامی مقامات پر تھوکنا جرم 10ہزار روپے جرمانہ ہوگا
تیزاب حملے کے مرتکب افراد کو 14 سال یا عمر قید تک سزا دینے کی دفعات بھی شامل ،تاریخی مقامات کی توڑ پھوڑ پر بھی جرمانہ ہوگا ، کسی بھی عمارت کو نوٹیفکیشن کے ذریعے خطرناک قرار دے سکے گی۔ غیرقاپنجاب اسمبلی میں قانون پیش
لاہور(کرائم رپورٹر )پنجاب حکومت نے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے نیا قانون متعارف کرا دیا۔ اس قانون کے تحت ’’پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی‘‘ کا دائرہ کار لاہور سے بڑھا کر پورے پنجاب تک وسیع کر دیا گیا ہے۔بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ بل کے متن کے مطابق اتھارٹی کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی عمارت کو نوٹیفکیشن کے ذریعے خطرناک قرار دے سکے گی۔ غیرقانونی تعمیرات یا تجاوزات پر اب پانچ سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔بل میں عوامی نظم و ضبط اور صفائی کے حوالے سے بھی سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں،عوامی مقامات پر تھوکنے یا کوڑا کرکٹ پھینکنے،تاریخی مقامات پر توڑ پھوڑ پر 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد ہوگا۔نئی اتھارٹی کی چیئرپرسن وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں گے جبکہ چیف سیکریٹری وائس چئیرپرسن ہوں گے۔ بل کو مزید غور و خوض کے لیے پنجاب اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو دو ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔ بل کی حتمی منظوری رائے شماری کے ذریعے دی جائے گی۔پنجاب اسمبلی نے "پنجاب ایسڈ کنٹرول بل 2025" متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، جو تیزاب گردی جیسے بھیانک جرائم کی روک تھام کے لیے ایک انقلابی قانون ہے۔ یہ بل رکن صوبائی اسمبلی اور چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کی جانب سے پیش کیا گیا۔ ایوان میں بحث کے بعد بل کو منظور کر لیا گیا، جس میں تیزاب اور دیگر خطرناک کیمیکلز کی خرید و فروخت، ذخیرہ اور تقسیم پر سخت ضوابط عائد کیے گئے ہیں بل کو قائمہ کمیٹی کی منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ حنا پرویز بٹ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل محض کاغذی کارروائی نہیں، بلکہ ایک عملی اور مانیٹرنگ پر مبنی فریم ورک ہے۔ ہم نے صرف سزائیں نہیں، راستے بند کیے ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب اس قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے نگرانی اور پالیسی سازی کرے گا تاکہ اس کی مکمل پیروی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں تیزاب حملے کے مرتکب افراد کو 14 سال یا عمر قید تک سزا دینے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ مجرموں کے لیے سخت سزا یقینی بنائی جا سکے۔ یہ قانون وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس وڑن کا عملی اظہار ہے کہ خواتین پر تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔