پرینکا گاندھی نے مودی حکومت کی فلسطین پالیسی کی مذمت کی، اسرائیلی اثر و رسوخ بے نقاب

پرینکا گاندھی نے مودی حکومت کی فلسطین پالیسی کی مذمت کی، اسرائیلی اثر و رسوخ بے نقاب

ویب ڈیسک: بھارت میں فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کے خلاف کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کی خاموشی شرمناک اور فلسطین کے حوالے سے اس کا موقف فریب پر مبنی ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ دنیا بھر میں اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت ہو رہی ہے، مگر بھارتی حکومت مسلسل خاموش ہے اور فلسطینی عوام کے حق میں واضح موقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی دوغلی سیاست اور ریاستی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھایا، جنہیں اسرائیلی بیانیے کی چھاپ کہا جا رہا ہے۔اس بیان کے جواب میں بھارت میں اسرائیلی سفیر ریوین آزر نے پرینکا گاندھی کے بیان کو شرمناک قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واضح کرتا ہے کہ اسرائیل بھارت کے اندرونی امور اور پالیسیوں پر براہِ راست اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے تعلقات صرف دفاعی یا تکنیکی تعاون تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایک نظریاتی ہم آہنگی کا گٹھ جوڑ بھی واضح ہو چکا ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے بھارت میں اسرائیلی سفیر کی حیثیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ "وائسرائے" کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔اسرائیلی اثر و رسوخ پر مبنی پالیسیوں کے خلاف بھارت کے اندر آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔پرینکا گاندھی کا بیان اور اسرائیل کا ردعمل بھارت میں فلسطین کے حوالے سے سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی توجہ کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے بھارت کی خارجہ اور اندرونی پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔