امریکی محکمۂ انصاف کی تحقیقات کے مطابق بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل کے ساتھ دوستانہ جھکاؤ مبینہ طور پر ایک خفیہ کرپٹ نیٹ ورک کے اثر و رسوخ میں تشکیل پایا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کی اسرائیل پالیسی میں سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے مشورے شامل تھے، جنہوں نے بھارت کو ہدایات دیں کہ وہ 2 ارب ڈالر کے اسلحہ اور انٹیلی جنس خریداری میں اضافہ کرے تاکہ وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل کی جا سکے۔مزید رپورٹس کے مطابق ایپسٹین نے قطری شاہی خاندان کے سامنے اس اثر کو اپنے مشوروں کا نتیجہ قرار دیا اور خود کو وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے طور پر پیش کرتا رہا۔ ارب پتی انیل امبانی بھی اس نیٹ ورک کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ کے اہم حلقوں تک رسائی حاصل کرتے رہے، جن میں اسٹیو بینن اور ٹام بیرک شامل ہیں۔امیانی نے مبینہ طور پر جیرڈ کشنر سے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے لیے اسی نیٹ ورک کا استعمال کیا، جبکہ ایپسٹین نے اپنی سفارتی روابط، اٹلانٹک کونسل اور انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے پرائیویٹ ڈنرز منعقد کیے تاکہ امبانی کی عالمی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔
2017 میں اسرائیل کی جانب جھکاؤ اور 2 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے اسی مبینہ پس منظر میں ہوئے، جبکہ 2016 کے رافیل طیارہ معاہدے میں بھی مبینہ طور پر امبانی گروپ کو منصوبوں کی ذمہ داری دی گئی۔ مارچ 2026 میں منظر عام پر آنے والے پیغامات کے بعد امبانی کے اثاثے منجمد کیے جانے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔یہ معاملہ ایپسٹین کے نیٹ ورک اور جنسی استحصال سے متعلق سنگین الزامات کے پس منظر میں بھی زیر بحث رہا ہے، جس سے عالمی سیاست اور دفاعی معاہدوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔