وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پہلی سرکاری “میت منتقلی سروس” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد سوگوار خاندانوں کو مشکل وقت میں باوقار اور فوری سہولت فراہم کرنا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں یہ سروس لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو میت منتقلی کے لیے مختص گاڑیوں کی چابیاں بھی حوالے کیں اور سروس کا باقاعدہ معائنہ کیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ریسکیو اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ خلوص، ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اپنی ڈیوٹی انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی عزیز کی وفات کے وقت اہلِ خانہ کو صرف سہولت ہی نہیں بلکہ دلاسہ اور اخلاقی مدد فراہم کرنا بھی اس سروس کا حصہ ہے۔Rescue 1122 کے مطابق ہدایت کی گئی ہے کہ میت منتقلی کے عمل کے دوران کسی بھی صورت میں رقم وصول نہ کی جائے، حتیٰ کہ اگر لواحقین خود پیشکش بھی کریں تو اسے قبول نہ کیا جائے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق یہ سروس فی الحال مخصوص بڑے شہروں تک محدود ہوگی جبکہ دیگر علاقوں میں پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کے ذریعے یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر نے بریفنگ میں بتایا کہ شہری 1122 پر کال کر کے اس سروس سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ ہر سرکاری ہسپتال میں خصوصی ڈیسک بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ میت کی منتقلی کا عمل آسان اور منظم بنایا جا سکے۔