پاکستانی بحری جہازوں خیرپور اور شالامار سے متعلق شپنگ ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں جہازوں کی آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کے دوران عارضی طور پر صورتحال پیچیدہ ہوئی، تاہم چند گھنٹوں بعد دونوں جہاز دوبارہ خلیج فارس کی سمت بڑھ گئے۔
ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح دونوں جہازوں کو ابتدائی طور پر آبنائے ہرمز میں داخلے کے دوران کچھ وقت کے لیے روکا گیا، جس کے باعث ان کی پیش رفت عارضی طور پر متاثر ہوئی۔ بعد ازاں حالات معمول پر آنے پر دونوں جہازوں نے اپنی سمت دوبارہ بحال کرتے ہوئے خلیج فارس میں داخلہ شروع کیا۔شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کے کپتانوں، آصف اور شاہین، نے جہازوں کی محفوظ اور کنٹرول شدہ نیویگیشن کو یقینی بنایا اور صورتحال بہتر ہونے کے بعد انہیں مطلوبہ روٹ پر آگے بڑھایا۔ذرائع کے مطابق ایک جہاز کویت سے کروڑوں لیٹر ڈیزل لے کر کراچی پورٹ کی طرف روانہ ہے، جبکہ دوسرا جہاز متحدہ عرب امارات کے جزیرے داس سے کروڈ آئل لوڈ کر رہا ہے، جو بعد میں پاکستان لایا جائے گا۔
شپنگ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اس روٹ پر معمول کی تجارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، تاہم موجودہ جیوپولیٹیکل صورتحال کے باعث خطے میں سمندری نقل و حرکت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی کچھ پاکستانی جہازوں کی آبنائے ہرمز کے قریب آمدورفت رپورٹ ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں وہ بھی اپنے طے شدہ روٹس پر روانہ ہو گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی ترسیل کے لیے نہایت حساس اور اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں معمولی رکاوٹ بھی بین الاقوامی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔