مذاکرات کا رک جانا بدقسمتی ہے، شیری رحمٰن

مذاکرات کا رک جانا بدقسمتی ہے، شیری رحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر   شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ جاری مذاکرات کا اچانک رک جانا افسوسناک ہے اور یہ مرحلہ دراصل ایک “اسٹریٹجک وقفہ” ہونا چاہیے تھا، نہ کہ مکمل تعطل۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بڑے سفارتی اور سیاسی نتائج کبھی بھی ایک ہی نشست میں حاصل نہیں کیے جا سکتے، چاہے بات چیت طویل اور تفصیلی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے مطابق مذاکرات ایک مسلسل اور مرحلہ وار عمل ہوتا ہے جس میں مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔شیری رحمٰن نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات میں فریقین کے درمیان مسودوں کا تبادلہ، مؤقف کی وضاحت اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنا ایک اہم پیش رفت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی مرحلہ آگے بڑھ کر کسی بھی ممکنہ معاہدے یا جنگ بندی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تحمل، برداشت اور تسلسل ہی وہ عوامل ہیں جو سفارتی عمل کو کامیاب بناتے ہیں۔

 ان کے مطابق اگر مذاکرات میں مناسب وقت اور لچک نہ دی جائے تو صورتحال جمود یا تناؤ کی طرف جا سکتی ہے۔پیپلز پارٹی رہنما نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ مذاکرات ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ اختلافی نکات کو حل کرنے کے لیے دونوں فریقین کو مناسب وقت اور سیاسی گنجائش دینا ضروری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی عمل میں تحمل اور وقت کی کمی ہو تو یہ صورتحال کو مزید پیچیدہ اور طویل تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔