جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید اور ایک کمسن بچی شدید زخمی ہو گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، شہر صور کے قریب واقع گاؤں صریفہ میں ہونے والے حملے میں 7 سالہ بچی ایلین سعید شدید زخمی ہو گئی، جب کہ حملے میں اس کی نوزائیدہ بہن سمیت خاندان کے دیگر افراد شہید ہو گئے۔ ایلین کے دادا، ناصر سعید نے واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنازے میں شرکت کے بعد گھر واپس آ رہے تھے کہ اچانک شدید دھماکوں نے سب کچھ تباہ کر دیا، اور ایسا لگا جیسے طوفان ہم پر ٹوٹ پڑا ہو۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا، جس سے لبنان میں بھی امن کی امید بندھی تھی، تاہم اس کے برعکس، اسرائیلی حملے جاری رہے اور مختلف علاقوں میں 350 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں غم اور تباہی کی فضا برقرار ہے، اور اسپتال زخمیوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔طبی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں پر حد سے زیادہ دباؤ ہے، اور ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ جبلِ عامل اسپتال کے ڈاکٹر عباس عطیہ کے مطابق، حالیہ بمباری گزشتہ برسوں کی شدید ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے، جس میں بڑی تعداد میں بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ لبنان میں حالیہ کشیدگی کا آغاز 2 مارچ کو ہوا، جب حزب اللہ نے اسرائیلی مقامات پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل نے فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔